اسلام آباد کے علاقے موریاں، محلہ ملک آباد میں تقریباً 1000 گھروں کو مسمار کرنے کی کوشش کی گئی، جس سے مقامی رہائشی شدید پریشانی اور احتجاج پر مجبور ہوگئے۔ اس کارروائی میں دو گھروں کی دیواریں بھی گرائی گئیں۔
تفصیلات کے مطابق، فیڈرل ایمپلائز گورنمنٹ ہاوسنگ اتھارٹی (FGEHA) اور ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کی جانب سے محلہ ملک آباد کے رہائشیوں کو بےگھر کرنے کی کوشش کی گئی، حالانکہ یہاں کے تمام رہائشی زمین کے قانونی مالکان ہیں۔ متاثرہ افراد نے وزیراعظم، آرمی چیف اور چیف جسٹس پاکستان سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
ناخوشگوار واقعے کی اطلاع پر سینیٹر مشتاق نے محلہ ملک آباد کا دورہ کیا اور متاثرہ عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ سینیٹر مشتاق نے کہا کہ یہ پاکستان ہے، کوئی فلسطین نہیں، جہاں زبردستی قبضہ کیا جائے۔
مقامی رہائشیوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اپنی زمین اور گھروں کے تحفظ کا مطالبہ کیا، اور حکومت سے فوری نوٹس لینے کا تقاضا کیا۔ اس کارروائی میں ڈی ایچ اے کی مکمل معاونت شامل رہی، جس کے باعث تنازعہ مزید بڑھ گیا ہے۔
اسلام آباد: موریاں میں گھروں کو گرانے کی کوشش، عوام شدید احتجاج میں








