پنجاب میں اب زبانی لین دین کے ذریعے زمین کی فرد نکلوانا یا زمین منتقل کرنا ممکن نہیں ہوگا، زمین کا انتقال صرف رجسٹرڈ دستاویزات کی بنیاد پر ہی ممکن ہوگا۔
یہ نوٹیفکیشن پنجاب لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کی دفعات 13(2)، 16(2)، 17 اور 42-A کے تحت جاری کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق وراثت کے کیسز کے علاوہ ہر قسم کے زمین کے انتقال کے لیے رجسٹرڈ دستاویزات لازمی ہوں گی۔ خرید و فروخت، رہن، تبادلہ یا ہبہ جیسے معاملات صرف رجسٹرڈ انسٹرومنٹ کے ذریعے ہی قابل قبول ہوں گے۔
رجسٹریشن ایکٹ 1908 کے تحت بغیر رجسٹرڈ دستاویز زمین کی منتقلی ممکن نہیں، اور ٹرانسفر آف پراپرٹی ایکٹ 1882 کی دفعات 3، 54، 59، 118 اور 123 اس پر لاگو ہوں گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ غیر رجسٹرڈ معاہدے یا اسٹامپ پیپر پر زمین کی منتقلی کو ریکارڈ میں درج نہیں کیا جا سکے گا۔
تمام ریونیو افسران کو اس نوٹیفکیشن پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت کی گئی ہے، اور پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کو بھی اس حوالے سے مطلع کر دیا گیا ہے۔ یہ نوٹیفکیشن فوری طور پر نافذ العمل ہوگا، تاکہ زمین کے لین دین میں شفافیت اور قانونی یقینیات کو فروغ دیا جا سکے۔
پنجاب میں زبانی لین دین سے زمین کی منتقلی پر مکمل پابندی








