بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں بڑا جھٹکا، پہلی ششماہی میں 321 ارب روپے کا شارٹ فال

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) رواں مالی سال 2025-26 کی پہلی ششماہی (جولائی تا دسمبر) میں اپنے ٹیکس وصولی کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے، جس سے حکومت کی آمدنی کی منصوبہ بندی پر تشویش پیدا ہو گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق دسمبر 2025 میں ایف بی آر کو تقریباً 21 ارب روپے کے ریونیو شارٹ فال کا سامنا کرنا پڑا۔ دسمبر میں مجموعی عبوری خالص ٹیکس وصولیاں 1425 ارب روپے رہیں، جبکہ مقررہ ہدف 1446 ارب روپے تھا۔
پوری پہلی ششماہی کے دوران (جولائی تا دسمبر) ایف بی آر کی مجموعی عبوری خالص ٹیکس وصولیاں 6169 ارب روپے رہیں، جو مقررہ ہدف 6490 ارب روپے سے 321 ارب روپے کم ہیں۔ یہ شارٹ فال پہلے پانچ ماہ میں 315 ارب روپے تھا، جو دسمبر کے بعد مزید بڑھ گیا۔
ایف بی آر حکام کے مطابق دسمبر کے حتمی اعداد و شمار مرتب ہونے کے بعد کچھ حد تک کمی ممکن ہے، لیکن مجموعی صورتحال تشویشناک ہے۔ پہلی ششماہی میں نمایاں کمی کے باعث مالی سال کے لیے 13.9 ٹریلین روپے کے نظرثانی شدہ ٹیکس ہدف کا حصول بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں کے پیش نظر ایف بی آر نے آئی ایم ایف سے بات کر کے ٹیکس ہدف 14.131 ٹریلین روپے سے کم کر کے 13.9 ٹریلین روپے مقرر کروایا تھا، لیکن مسلسل شارٹ فال کے باعث یہ ہدف بھی خطرے میں ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2025 میں صرف ایک ماہ ایسا رہا جس میں ٹیکس وصولیاں ہدف سے زیادہ رہیں: جولائی میں 757 ارب روپے جمع ہوئے جبکہ ہدف 748 ارب روپے تھا۔ اس کے بعد اگست میں 950 ارب کے ہدف کے مقابلے میں 901 ارب، ستمبر میں 1325 ارب کے مقابلے میں 1228 ارب، اکتوبر میں 1026 ارب کے مقابلے میں 951 ارب، نومبر میں 995 ارب کے مقابلے میں 895 ارب، اور دسمبر میں بھی ہدف سے 21 ارب روپے کم وصولیاں ہوئیں۔
یہ صورتحال مالی سال کے باقی مہینوں میں ٹیکس اہداف کے حصول کے لیے ایف بی آر کے لیے بڑا چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔