پی ایس ایل کے موجودہ ایڈیشن کے اختتام کے ساتھ ہی ملتان سلطانز کا سفر باضابطہ طور پر ختم ہو گیا ہے۔ پی سی بی اگلے ایڈیشن میں ٹیم کے انتظامات خود سنبھالے گا اور اس کے بعد فرنچائز کو فروخت کے لیے پیش کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق سابقہ اونرز کی جانب سے تندوتیز بیانات اور بعد میں نوٹس پھاڑنے جیسے اقدامات کے باعث پی سی بی اور ملتان سلطانز کے درمیان معاملات کو مزید جاری رکھنا ممکن نہ رہا۔ اسی وجہ سے دیگر فرنچائزز کے برعکس ملتان سلطانز کو معاہدے کی تجدید کی پیشکش نہیں کی گئی۔
بورڈ نے معاہدہ فوری طور پر ختم کرنے کے بجائے 31 دسمبر تک انتظار کیا، اور اب فرنچائز کا کنٹریکٹ باضابطہ طور پر ختم ہو چکا ہے۔ رواں سال 11ویں ایڈیشن میں پی سی بی خود انتظامات سنبھالے گا اور نئے مالکان کے لیے ٹیم کی فروخت کا عمل شروع ہوگا۔ نئے مالکان یہ فیصلہ کریں گے کہ ٹیم کا نام “ملتان سلطانز” برقرار رکھا جائے یا نیا نام اختیار کیا جائے۔ ملکیت کے ساتھ ساتھ تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ویب سائٹ بھی سابقہ اونرز کے کنٹرول سے نکل گئی ہیں۔
ملتان سلطانز کے موجودہ فالوورز کی تعداد قابلِ ذکر ہے: فیس بک پر 17 لاکھ، ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر 7 لاکھ 74 ہزار، انسٹاگرام پر 5 لاکھ 76 ہزار اور ٹک ٹاک پر 5 لاکھ 6 ہزار فالوورز موجود ہیں۔ اس کے ساتھ، ملتان سلطانز دوسری بار فرنچائز کے سابقہ اونرز سے محروم ہوئی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ علی ترین نے ایک ارب 8 کروڑ روپے سالانہ فیس والی فرنچائز چھوڑ دی، جبکہ وہ ساتویں اور آٹھویں ٹیم کی نیلامی میں بھی شریک ہیں، جس کی فیس ڈیڑھ ارب روپے سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ حالانکہ ویلیوایشن میں فیس بڑھ گئی ہے، مگر وہ ممکنہ طور پر کم رقم میں ملتان سلطانز کو برقرار رکھ سکتے تھے۔
ذرائع کے مطابق سابقہ اونرز کو خدشہ تھا کہ انہیں نیلامی میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی، تاہم چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے انہیں ذاتی طور پر ویلکم کیا۔ 8 جنوری کی نیلامی میں کئی بڑی پارٹیز شرکت کر رہی ہیں، جس سے فروخت کی قیمت میں اضافے کے امکانات ہیں۔
سابقہ اونرز اس موقع کو اپنی تشہیر کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اس عمل کے لیے انہیں صرف 20 ہزار ڈالرز خرچ کرنے پڑیں گے، اور اگر نیلامی میں کامیاب نہ ہوئے تو 2 لاکھ ڈالرز واپس کر دیے جائیں گے۔ سالانہ 2 ارب روپے خرچ کرنا ان کے لیے ممکن نہیں رہا، تاہم بولی میں شرکت اور سوشل میڈیا پر سرگرمی سے ان کا پروفائل بہتر ہو سکتا ہے۔









