چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی صدارت میں جوڈیشل کمیشن نے پانچوں ہائی کورٹ کے 40 ایڈیشنل ججز کی مستقل تقرری کے لیے پانچ اجلاس 12 جنوری سے 15 جنوری 2026 تک طلب کر لیے ہیں۔
اجلاسوں کا شیڈول اور ججز کی تفصیل:
12 جنوری: اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اعظم خان، جسٹس محمد آصف، جسٹس انعام امین منہاس، اور بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس ایوب خان اور جسٹس نجم الدین مینگل کی مستقلی پر غور ہوگا۔
13 جنوری: سندھ ہائی کورٹ کے 12 ججز بشمول جسٹس میراں محمد شاہ، جسٹس تسلیم سلطانہ، جسٹس ریاضت علی سحر، جسٹس حسن اکبر اور دیگر کی مستقلی پر غور ہوگا۔ اس اجلاس میں سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بنچز کی مدت میں توسیع پر بھی بات ہوگی۔
14 جنوری: پشاور ہائی کورٹ کے 10 ججز، جن میں جسٹس طارق آفریدی، جسٹس عبدالفیاض، جسٹس فرح جمشید اور دیگر شامل ہیں، کی مستقلی پر غور کیا جائے گا۔
15 جنوری: لاہور ہائی کورٹ کے 13 ججز، بشمول جسٹس حسن نواز، جسٹس وقار اعوان، جسٹس سردار اکبر اور دیگر، کی مستقل تقرری کے لیے اجلاس ہوگا۔
وفاقی آئینی عدالت میں ججز کی تعیناتی
27ویں ترمیم کے تحت جوڈیشل کمیشن کا ایک اور اہم اجلاس بھی 12 جنوری کو سپریم کورٹ میں طلب کیا گیا ہے تاکہ وفاقی آئینی عدالت، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں ججز کی تقرری کا فریم ورک طے کیا جا سکے۔
آرٹیکل 175 اے کی شق چار کے مطابق ججز کے تقرر سے قبل امیدواروں کے انٹرویوز کیے جاتے ہیں، تاہم جوڈیشل کمیشن رولز 2025 میں انٹرویو کا طریقہ کار واضح نہیں کیا گیا۔ رول 15 سب رول چار کے تحت، کمیشن کسی بھی ابہام پر کل ممبران کی دو تہائی اکثریت سے فیصلہ کر سکتا ہے۔
ماہر قانون کا نقطہ نظر
ماہر قانون حافظ احسان کھوکھر کے مطابق پہلے ہائی کورٹس کے چیف جسٹس ہی ججز کی نامزدگی کرتے تھے، لیکن اب جوڈیشل کمیشن کے ہر ممبر کو نامزدگی کا اختیار ہے، جس کے لیے امیدوار کے انٹرویو کا طریقہ کار پہلے سے طے ہونا ضروری ہے۔
دیگر امور
جوڈیشل کمیشن رولز 2024 میں وفاقی آئینی عدالت میں مزید ججز کی تعیناتی اور آئینی بنچز کے لیے ججز کی نامزدگی کا طریقہ کار بھی زیر غور ہوگا۔
فی الحال ہائی کورٹس کے ججز کے ٹرانسفر کا معاملہ زیر غور نہیں ہے۔
یہ اجلاس ملکی عدلیہ کے لیے اہم ہیں، کیونکہ ان سے ہائی کورٹ کے ایڈیشنل ججز کی مستقل تقرری اور آئینی بنچز کی فعالیت میں شفافیت اور تیزی آئے گی۔
پانچوں ہائی کورٹ کے 40 ایڈیشنل ججز کی مستقلی کے لیے جوڈیشل کمیشن کے پانچ اجلاس طلب








