وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے نجی تھیلیسیمیا کیئر سینٹر میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں تھیلیسیمیا کے بڑھتے ہوئے کیسز تشویشناک ہیں اور اس کے پیچھے حکومت اور معاشرے کی غفلت ہے۔
انہوں نے کہا کہ نکاح سے پہلے لڑکوں کا تھیلیسیمیا ٹیسٹ لازمی ہونا چاہیے۔ جو لوگ یہ ٹیسٹ نہیں کرواتے، وہ دراصل اپنے مستقبل کے بچوں کے لیے خطرہ پیدا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا: “کیا ہم پولیو کے قطرے بھی گن پوائنٹ پر پولیس کے ساتھ پلائیں اور نکاح سے پہلے ٹیسٹ بھی اسی طرح کریں؟ عوام خود شعور حاصل کریں۔”
مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ “ہمارا المیہ یہ ہے کہ پولیو کے قطرے دینے کے لیے پولیس کی مدد لینا پڑتی ہے۔” انہوں نے بتایا کہ اعضا کی خرید و فروخت پر پابندی ہے لیکن رشتے دار ایک دوسرے کو اعضا دے سکتے ہیں، اور بون میرو ٹرانسپلانٹ کے مراحل کو آسان بنایا جا رہا ہے۔
وزیر صحت نے یہ بھی کہا کہ پیدائش میں وقفہ نہ دینے کے باعث اسپتالوں پر تنقید کی جاتی ہے، حالانکہ اصل توجہ بیماریاں کم کرنے اور عوام کو صاف پانی فراہم کرنے پر ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 70 فیصد بیماریاں آلودہ پانی کے استعمال سے پیدا ہوتی ہیں، لیکن صاف پانی فراہم کرنا صرف وزیر صحت کی ذمہ داری نہیں ہے، بلکہ عوام کو بھی شعور اور احتیاط اختیار کرنی ہوگی۔









