بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

اسلام آباد:(نیوزڈیسک) چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے بلوچستان کے خطے کو علاقائی روابط، قدرتی وسائل اور قومی سلامتی کے حوالے سے نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انفراسٹرکچر، تجارت، معدنیات اور رابطہ کاری کے شعبوں میں سرمایہ کاری سے نہ صرف بلوچستان کے عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا بلکہ روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے اور قومی ترقی کو فروغ ملے گا۔

چیئرمین سینیٹ نے یہ بات ایوانِ صدر میں نیشنل ورکشاپ بلوچستان (NWB-18) کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کو ملانے والا ایک اسٹریٹجک خطہ ہے، جس کی ساحلی پٹی، قدرتی وسائل اور جغرافیائی محلِ وقوع پاکستان کے معاشی مستقبل اور قومی سلامتی میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔

سید یوسف رضا گیلانی نے بلوچستان کے عوام کے لیے ریاست کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت امن، ترقی، عوامی شمولیت اور آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کر رہی ہے جبکہ ریکوڈک اور سی پیک سے وابستہ منصوبے صوبائی مفادات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی، استعداد کار میں اضافے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط کریں گے۔

چیئرمین سینیٹ نے زور دیا کہ بلوچستان کے عوام اپنی بھرپور ثقافت، تاریخ اور روایات کے ساتھ قومی شناخت کا لازمی حصہ ہیں اور صوبے بھر میں ترقی، مواقع اور شمولیت کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے بلوچستان کو درپیش موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات، خصوصاً سیلاب اور شدید بارشوں کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مسلسل انسانی امداد، بحالی کے اقدامات اور طویل المدتی منصوبہ بندی ضروری ہے۔

انہوں نے بلوچستان کے عوام کی مشکلات کے باوجود ثابت قدمی کو سراہتے ہوئے کہا کہ صوبے کے نوجوانوں کو تعلیم، ہنر اور مواقع فراہم کر کے انہیں امن، ترقی اور قومی یکجہتی کا مؤثر ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے پاکستان نیوی وار کالج کے حالیہ دورے کا حوالہ دیتے ہوئے سمندری سلامتی اور بلیو اکانومی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

سید یوسف رضا گیلانی نے بطور وزیرِاعظم اپنے دور میں بلوچستان کو دی جانے والی ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے 2009 کے آغازِ حقوقِ بلوچستان پیکیج کو ایک تاریخی اور متفقہ پارلیمانی اقدام قرار دیا، جس کا مقصد سیاسی، معاشی اور انتظامی مسائل کا حل، اعتماد کی بحالی، صوبائی خودمختاری، منصفانہ وسائل کی تقسیم، نوجوانوں کے لیے روزگار اور سول سروس میں نمائندگی کے ساتھ ساتھ تعلیمی وظائف اور اداروں کے قیام کو فروغ دینا تھا۔

انہوں نے کہا کہ وسائل سے مالا مال علاقوں میں خصوصی ترقیاتی اقدامات کا مقصد مقامی آبادی کو براہِ راست فائدہ پہنچانا ہے جبکہ پائیدار امن کے قیام کے لیے سیاسی مفاہمت اور مکالمہ ناگزیر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سینیٹ آف پاکستان صوبائی حقوق کے تحفظ، وفاق کو مضبوط بنانے اور شفافیت و مکالمے کے ذریعے متوازن ترقی کے فروغ کے لیے اپنا آئینی کردار ادا کرتا رہے گا۔

ورکشاپ کے شرکاء کو خوش آمدید کہتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے حکومتِ بلوچستان اور ہیڈکوارٹرز 12 کور، کوئٹہ کے تعاون سے نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے انعقاد کو قابلِ تحسین قرار دیا۔ انہوں نے منتظمین کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے فورمز پالیسی سازوں، ماہرینِ تعلیم، پیشہ ور افراد اور نوجوان قیادت کو یکجا کر کے قومی یکجہتی، باہمی سمجھ بوجھ اور استعداد سازی کو فروغ دیتے ہیں۔

تقریب کے اختتام پر سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں چیئرمین سینیٹ نے جامع ترقی، قومی سلامتی، پارلیمانی قانون سازی اور سیاسی مفاہمت سے متعلق مختلف امور پر اظہارِ خیال کیا۔