بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

غزہ کی بدترین صورتحال، پاکستان سمیت8 ممالک کا گہری تشویش کا اظہار

اسلام آباد:(نیوزڈیسک) پاکستان، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، ترکیہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے غزہ کی پٹی میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ شدید بارشوں، طوفانوں اور غیر مستحکم موسمی حالات نے پہلے سے نازک انسانی حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے، جبکہ انسانی امداد تک ناکافی رسائی، زندگی بچانے والی بنیادی اشیاء کی شدید قلت اور بنیادی سہولیات کی بحالی و عارضی رہائش کے لیے ضروری مواد کی سست رفتاری سے آمد نے بحران کو مزید بڑھا دیا ہے۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے دفتر سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وزرائے خارجہ نے نشاندہی کی کہ شدید موسم نے موجودہ انسانی حالات کی کمزوری کو بے نقاب کر دیا ہے، خاص طور پر تقریباً 19 لاکھ افراد اور بے گھر خاندانوں کے لیے جو ناکافی پناہ گاہوں میں رہائش پذیر ہیں۔ سیلاب زدہ کیمپ، تباہ شدہ خیمے، خستہ عمارتوں کا انہدام اور سرد موسم کے ساتھ غذائی قلت نے شہری جانوں کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے، جس میں بیماریوں کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی شامل ہے، خاص طور پر بچوں، خواتین، بزرگوں اور طبی مسائل کے شکار افراد کے لیے۔

بیان میں اقوام متحدہ کے تمام اداروں، بالخصوص یو این آر ڈبلیو اے، اور انسانی ہمدردی کی بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کی انتھک کوششوں کو سراہا گیا، جو نہایت مشکل اور پیچیدہ حالات میں فلسطینی شہریوں کو امداد فراہم کر رہی ہیں۔

وزرائے خارجہ نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل اس بات کو یقینی بنائے کہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی این جی اوز غزہ اور مغربی کنارے میں مستقل، قابلِ پیش گوئی اور بلا روک ٹوک طریقے سے کام کر سکیں، کیونکہ انسانی امدادی ردِعمل میں ان کا کردار کلیدی ہے۔ ان کی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنے کی کوئی بھی کوشش ناقابلِ قبول قرار دی گئی۔

وزرائے خارجہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 اور صدر ٹرمپ کے جامع منصوبے کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا اور ان کی کامیاب عملدرآمد میں تعاون کے عزم کا اظہار کیا، تاکہ جنگ بندی کے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے، غزہ میں جنگ کا خاتمہ ہو، طویل انسانی مصائب جھیلنے والے فلسطینی عوام کو باوقار زندگی میسر آئے اور فلسطینی خود ارادیت و ریاست کے قیام کی جانب ایک قابلِ اعتبار راستہ ہموار ہو۔

اس تناظر میں انہوں نے فوری طور پر ابتدائی بحالی کے اقدامات شروع کرنے اور ان میں توسیع کی اشد ضرورت پر زور دیا، جن میں سخت سردیوں سے آبادی کے تحفظ کے لیے پائیدار اور باوقار رہائش کی فراہمی شامل ہے۔

وزرائے خارجہ نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں نبھائے اور قابض طاقت کی حیثیت سے اسرائیل پر دباؤ ڈالے کہ وہ خیموں، پناہ گاہی مواد، طبی امداد، صاف پانی، ایندھن اور صفائی و نکاسی آب کی سہولیات سمیت ضروری سامان کی ترسیل اور تقسیم پر عائد پابندیاں فوری طور پر ختم کرے۔

انہوں نے اقوام متحدہ اور اس کے اداروں کے ذریعے غزہ کی پٹی میں بلا رکاوٹ، مکمل اور فوری انسانی امداد کی فراہمی، بنیادی ڈھانچے اور اسپتالوں کی بحالی، اور صدر ٹرمپ کے منصوبے کے مطابق رفح کراسنگ کو دونوں اطراف کے لیے کھولنے کا بھی مطالبہ کیا۔