اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاکستانی شہریوں کی اوسط آمدن میں اضافہ ہوگیا جبکہ کرائے داروں کی تعداد میں اضافہ اور ذاتی ملکیت گھروں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے کے مطابق گزشتہ 5 سال میں شہریوں کی اوسط آمدنی میں 97 فیصد اضافہ ہوگیا جبکہ 2019 سے 2025 تک گھریلو اخراجات میں 113 فیصد اضافہ ہوا۔ ملک میں اوسطا ماہانہ آمدن 82 ہزار اور اخراجات 79 ہزار روپے ہیں۔
سروے کے مطابق اخراجات میں سب سے زیادہ فرنشنگ، گھریلو آلات، ہیلتھ، فوڈز، گڈز اینڈ سروسز پر ریکارڈ کیےگئے، بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث ذاتی ملکیتی گھروں کی شرح میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ سروے کے مطابق 2018،19 میں 84 فیصد لوگوں کے پاس اپنے گھر تھے جبکہ موجودہ سروے میں 82 فیصد لوگوں کے پاس اپنے گھر ہیں۔ کرائے کے گھروں میں رہنے والوں کی تعداد 10 فیصد سے بڑھ کر 10.5 فیصد ہوگئی۔
ہاؤس ہولڈ اکنامک سروے رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں کلین فیول کے استعمال میں اضافہ ریکارڈ ہوا ہے، پانچ سال میں کلین فیول کا استعمال 35 فیصد سے بڑھ کر 38 فیصد ہو گیا ہے، لائٹنگ اور کوکنگ کیلئے نیچرل گیس، ایل پی جی، بائیو گیس، سولر انرجی کا استعمال بڑھ گیا۔
ہینڈ پمپ سے پانی استعمال کرنے والوں کی شرح 24 فیصد سے کم ہو کر 22 فیصد ہوگئی جبکہ نل سے پانی استعمال کرنے والوں کی شرح 18 فیصد سے بڑھ کر 22 فیصد ہو چکی ہے، اسی طرح فلٹر کا پانی استعمال کرنے والوں کی شرح 9 فیصد سے بڑھ کر 10 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔
سروے کے مطابق ملک میں 7 فیصد آبادی ابھی تک لیٹرین جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہے، ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے آمدن میں ٹک ٹاک سب سے آگے ہے، ڈیجیٹل پلیٹ فارم کو استعمال کرنے والے 88 فیصد لوگ ٹک ٹاک استعمال کرتے ہیں، یوٹیوب چینل پر وی لاگ کرنے والے 86 فیصد لوگ ہیں۔









