بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

مودی سرکار کی خاموشی، کرسمس حملوں پر بالواسطہ منظوری کا تاثر: امریکی اخبار

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے تعصب، عدم برداشت اور تنگ نظری کو بے نقاب کرتے ہوئے مودی حکومت کے طرزِ عمل پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 2014 میں نریندر مودی کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد اور امتیازی سلوک میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ مسلمان، جو بھارتی آبادی کا تقریباً 14 فیصد ہیں، انتہا پسند عناصر کے سب سے زیادہ وحشیانہ حملوں کا نشانہ بنے۔ انہیں رہائش، ملازمت، تعلیم اور ووٹ ڈالنے جیسے بنیادی حقوق میں بھی امتیاز کا سامنا ہے، جبکہ کئی علاقوں میں مسلمانوں کو کاروبار کرنے اور آزادانہ نقل و حرکت سے روکا جاتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عیسائی برادری، جو بھارت کی آبادی کا صرف 2.3 فیصد ہے اور زیادہ تر غریب طبقوں سے تعلق رکھتی ہے، وہ بھی نفرت اور انتہا پسندوں کی غنڈہ گردی کا شکار ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق 2025 میں عیسائیوں کے خلاف 706 واقعات رپورٹ ہوئے، جنہیں اکثر زبردستی تبدیلیٔ مذہب روکنے کے نام پر جائز قرار دیا جاتا ہے۔
اخبار نے نشاندہی کی کہ بھارت کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست اتر پردیش میں کرسمس کے روز اسکول کھلے رکھنے کا حکم دیا گیا، جبکہ کرسمس تقریبات کے دوران انتہا پسند ہندو عناصر گرجا گھروں کے باہر جمع ہوئے، عیسائی مشنریوں کے خلاف نعرے بازی کی اور بلند آواز میں ہندو مذہبی دعائیں پڑھیں۔ ایسے واقعات بی جے پی کے زیرِ اقتدار متعدد ریاستوں میں سامنے آئے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت میں سیکولرازم کبھی بھی مضبوط بنیادوں پر قائم نہیں رہا، مگر مودی حکومت کے دور میں اس کا ظاہری تاثر بھی ختم ہو چکا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق کرسمس کے موقع پر گرجا گھروں پر ہونے والے حملوں کی مذمت تک نہ کرنا اس بات کی علامت ہے کہ مودی سرکار انتہا پسند ہندو عناصر کو خاموش منظوری دے رہی ہے۔
اسی تناظر میں امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے اپنی 2025 کی سالانہ رپورٹ میں سفارش کی ہے کہ امریکا بھارت کو ’’خاص تشویش والا ملک‘‘ قرار دے، کیونکہ وہاں مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیاں بلا روک ٹوک اور بغیر سزا کے جاری ہیں۔