بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ایمنسٹی انٹرنیشنل، 27ویں آئینی ترمیم پر شدید تنقید، اظہار تشویش

 

اسلام آباد(نیوزڈیسک)انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 27ویں آئینی ترمیم کو پاکستان میں عدلیہ کی آزادی، منصفانہ سماعت کے حق اور قانون کی حکمرانی پر منظم اور مسلسل حملہ قرار دیتے ہوئے اس قانون سازی کا فوری طور پر ازسرِنو جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ میں پانچ روزہ شدید بحث، اپوزیشن کے احتجاج اور آخری لمحات میں کی گئی ترامیم کے بعد منظور کی گئی۔ اس ترمیم پر وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے ذریعے عدالتی آزادی ختم کرنے اور آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیم کر کے مسلح افواج کی قیادت کے اسٹرکچر میں تبدیلی لانے پر سخت تنقید کی گئی۔

منگل کو جاری بیان میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ یہ ترمیم پاکستان میں عدلیہ کی آزادی، منصفانہ ٹرائل کے حق اور قانون کی بالادستی کے خلاف منظم حملے کی انتہا ہے۔

تنظیم نے حکام پر زور دیا کہ اس ترمیم کا فوری جائزہ لیا جائے تاکہ اس کی تمام شقیں پاکستان کی بین الاقوامی انسانی حقوق سے متعلق ذمہ داریوں اور وعدوں سے ہم آہنگ ہوں۔

ایمنسٹی نے کہا کہ یہ ترمیم صدرِ مملکت اور بری، بحری اور فضائی افواج کے سربراہان کو احتساب سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔

تنظیم کے مطابق پاکستانی حکام کو فوری طور پر ایسے تمام اقدامات کرنے چاہئیں جن سے ججوں کی غیرجانبداری، آزادی اور سلامتی یقینی بن سکے تاکہ وہ کسی بھی قسم کی بلاجواز مداخلت، دباؤ یا دھمکی کے بغیر اپنے عدالتی فرائض انجام دے سکیں۔

ایمنسٹی نے کہا کہ یہ ترمیم بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کی خلاف ورزی ہے، خاص طور پر عدلیہ کی آزادی، منصفانہ ٹرائل، انصاف اور احتساب کو نقصان پہنچاتی ہے۔

عالمی تنظیم نے مطالبہ کیا کہ پاکستانی حکام انسانی حقوق سے متعلق اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کریں، ملک میں ہر فرد کے حقوق کا مؤثر تحفظ کریں، متاثرین کو انصاف تک رسائی اور مؤثر قانونی چارہ جوئی فراہم کریں اور اختیارات کی تقسیم اور قانون کی بالادستی کا احترام یقینی بنائیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق 27ویں ترمیم کے نتیجے میں قائم کی گئی وفاقی آئینی عدالت آزادی سے محروم ہے اور ججوں کے تحفظ کو کمزور کرتی ہے۔

تنظیم نے نشاندہی کی کہ اس ترمیم کے وسیع اثرات کے باوجود اسے سول سوسائٹی اور اپوزیشن جماعتوں سے کسی مشاورت کے بغیر منظور کیا گیا۔

ایمنسٹی نے یاد دلایا کہ جس دن یہ ترمیم قانون بنی، سپریم کورٹ کے دو سینئر جج، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ مستعفی ہو گئے جبکہ دو دن بعد لاہور ہائیکورٹ کے سابق جج شمس محمود مرزا نے بھی استعفیٰ دیا۔

عالمی تنظیم نے کہا کہ 27ویں ترمیم نے عدلیہ کی آزادی کو مزید کمزور کیا، جو پہلے ہی 2024 میں منظور ہونے والی 26ویں آئینی ترمیم سے متاثر ہو چکی تھی۔

ایمنسٹی کے مطابق 26ویں ترمیم بھی اسی طرح عجلت میں 24 گھنٹوں سے کم وقت میں منظور کی گئی تھی۔

بیان میں کہا گیا کہ 26ویں ترمیم کے تحت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی تشکیل بدل دی گئی، جس میں پارلیمنٹ کے ارکان شامل کیے گئے اور عدالتی ارکان کو اقلیت میں کر دیا گیا، جس سے ججوں کی تقرری کے عمل کے سیاسی ہونے کا خدشہ پیدا ہوا۔

ایمنسٹی نے بتایا کہ 26ویں ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس لینے کے اختیارات اور صدر کی جانب سے بھیجے گئے اہم آئینی سوالات پر رائے دینے کا اختیار نئے قائم کردہ آئینی بینچز کو منتقل کیا گیا، اور ان بینچز کو آئین کی تشریح سے متعلق مقدمات پر خصوصی اختیار دیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ آئینی بینچز کے قیام کے ایک سال بعد ہی 27ویں ترمیم کے ذریعے سپریم کورٹ کی سطح پر آئینی بینچ ختم کر کے ایک الگ وفاقی آئینی عدالت قائم کر دی گئی۔

عدلیہ پر حملے پر تشویش
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ 26ویں اور 27ویں ترامیم ایسے ماحول میں لائی گئیں جب عدلیہ پر حملوں اور دباؤ کے حوالے سے سنگین خدشات موجود تھے۔ تنظیم کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں متعدد ججوں نے حکومتی اتحاد اور فوج سے متعلق اہم مقدمات میں مداخلت اور دھمکیوں کی شکایات کیں۔

ایمنسٹی نے مارچ 2024 میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججوں کے اس کھلے خط کا حوالہ بھی دیا جو اُس وقت کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو لکھا گیا تھا، جس میں خاص طور پر سابق وزیراعظم عمران خان سے متعلق مقدمات، خفیہ ادارے کی جانب سے دباؤ، ججوں کے اہل خانہ کے اغوا اور گھروں میں نگرانی جیسے الزامات لگائے گئے تھے۔

تنظیم نے بتایا کہ بعد ازاں اس معاملے پر سپریم کورٹ نے متعلقہ ہائیکورٹس سے جواب طلب کیا، جس پر پشاور ہائیکورٹ نے جواب دیا کہ عدالتی معاملات میں انتظامیہ کی مداخلت ایک کھلا راز ہے اور ججوں کو سیاسی مقدمات کی سماعت کے دوران خفیہ اداروں کی جانب سے دھمکیوں کا سامنا رہتا ہے جبکہ آن لائن اور جسمانی سطح پر بھی دباؤ ڈالا جاتا ہے۔

ایمنسٹی نے اپریل 2024 کے اس واقعے کا بھی ذکر کیا جب سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس کے متعدد ججوں کو مشتبہ پاؤڈر والے خطوط موصول ہوئے۔ اسی ماہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار کے خلاف آن لائن کردار کشی کی مہم بھی چلائی گئی، جو اس کھلے خط کے دستخط کنندگان میں شامل تھے۔

بیان میں کہا گیا کہ مارچ 2024 میں جسٹس محسن اختر کیانی کے خلاف ایک گمنام شکایت دائر کی گئی جس میں ان پر جانبداری اور اقربا پروری کے الزامات لگائے گئے تاہم اس شکایت پر سپریم جوڈیشل کونسل نے فیصلہ نہیں دیا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے یاد دلایا کہ خط پر دستخط کرنے والے ایک اور جج جسٹس طارق محمود جہانگیری کو دسمبر 2025 میں ان کی قانون کی ڈگری کی قانونی حیثیت سے متعلق مقدمے کے بعد عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ جسٹس جہانگیری نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کے خلاف کارروائی آئینی طریقہ کار کے بغیر کی گئی اور کیس سننے والے بینچ میں مفادات کا ٹکراؤ موجود تھا۔

عجلت میں منظوری
ایمنسٹی نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے بھی 27ویں ترمیم کو عجلت میں منظور شدہ قرار دیا اور کہا کہ اس کی منظوری کے عمل میں قانونی برادری اور سول سوسائٹی سے وسیع مشاورت نہیں کی گئی۔

تنظیم نے بتایا کہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے بھی اس ترمیم کی تیزی سے منظوری اور بامعنی مشاورت کے فقدان پر شدید تشویش ظاہر کی تھی۔ ایمنسٹی کے مطابق ترمیم کا مسودہ 8 نومبر کو سینیٹ میں پیش کیا گیا، جو وفاقی کابینہ کی منظوری کے چند گھنٹوں بعد ہی منظر عام پر آیا۔

ایمنسٹی نے کہا کہ پارلیمانی کارروائی کے دوران کسی بھی مرحلے پر سول سوسائٹی یا دیگر متعلقہ فریقین کو رائے دینے کا موقع نہیں دیا گیا۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ ترمیم ایسے وقت میں منظور کی گئی جب پارلیمنٹ کی تشکیل خود متنازع تھی۔ ایمنسٹی کے مطابق اپوزیشن کے متعدد رہنما عمران خان کی 9 مئی 2023 کو گرفتاری کے بعد ہونے والے احتجاج سے متعلق مقدمات میں انسدادِ دہشت گردی عدالتوں سے سزاؤں کے باعث نااہل قرار دیے جا چکے تھے۔

ایمنسٹی نے پی ٹی آئی کی قومی اسمبلی میں مخصوص نشستوں کے معاملے کا بھی حوالہ دیا۔ تنظیم کے مطابق جولائی 2024 میں سپریم کورٹ کے 13 رکنی بینچ نے فیصلہ دیا تھا کہ پی ٹی آئی مخصوص نشستوں کی حق دار ہے۔ اگر اس فیصلے پر عمل ہوتا تو پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل کا اتحاد 114 نشستوں کے ساتھ قومی اسمبلی کی سب سے بڑی جماعت بن جاتا۔

تاہم ایمنسٹی کے مطابق 26ویں ترمیم کے بعد قائم آئینی بینچ میں اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا اور جون 2025 میں بینچ نے فیصلہ دیا کہ پی ٹی آئی مخصوص نشستوں کی اہل نہیں۔ بعد ازاں یہ نشستیں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمٰن میں تقسیم کر دی گئیں، جس کے نتیجے میں حکمران اتحاد کو قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل ہو گئی۔

وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے سنگین نتائج
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اثرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم نے خبردار کیا کہ اس نئے عدالتی ڈھانچے کے قیام سے انصاف تک رسائی اور انسانی حقوق کے تحفظ پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ آئین کے تحت بنیادی حقوق کے نفاذ سے متعلق مقدمات اب اسی نئی عدالت کے دائرہ اختیار میں آ جائیں گے۔

ایمنسٹی نے یاد دلایا کہ آئین کے آرٹیکل 17 کے تحت سیاسی جماعتوں پر وفاقی حکومت کی جانب سے عائد پابندیوں کی توثیق اور نظرثانی کا اختیار جو اس سے قبل سپریم کورٹ کے پاس تھا، اب وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کر دیا گیا ہے، حالانکہ یہی آرٹیکل تنظیم سازی کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں، کیونکہ حکومت ماضی میں کھلے عام ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی پر پابندی عائد کرنے کے ارادے کا اظہار کر چکی ہے جبکہ پنجاب اسمبلی بھی پی ٹی آئی کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے کر اس پر پابندی کی قرارداد منظور کر چکی ہے۔

ایمنسٹی نے کہا کہ سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے درمیان دائرہ اختیار کی واضح حد بندی نہ ہونے سے یہ ابہام پیدا ہو گیا ہے کہ کون سا مقدمہ کس فورم پر سنا جائے گا، جس کے باعث عدالتی کارروائی میں تاخیر ہو سکتی ہے اور اس کا براہ راست نقصان سائلین کو پہنچے گا۔

تنظیم نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ چونکہ نئی عدالت سپریم کورٹ کے سابقہ عدالتی فیصلوں کی پابند نہیں ہو گی، اس لیے آئین کی تشریح کے حوالے سے مزید انتشار پیدا ہونے کا امکان ہے۔

ایمنسٹی نے وفاقی آئینی عدالت کے ججوں کی تقرری کے طریقہ کار پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا اور نشاندہی کی کہ عدالت کے پہلے ججوں کا تقرر براہ راست انتظامیہ نے کیا۔

تنظیم کے مطابق وفاقی آئینی عدالت کے پہلے ججوں اور چیف جسٹس کی تقرری صدر نے وزیراعظم کے مشورے پر کی، جس میں آئین کے آرٹیکل 175 اے کے تحت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا طریقہ کار مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا۔ ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ یہ ابتدائی تقرریاں انتظامیہ کی براہ راست سیاسی مداخلت کے خدشات کو تقویت دیتی ہیں۔

ایمنسٹی نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد جوڈیشل کمیشن کی نئی تشکیل کے باعث مستقبل کی تقرریوں پر بھی خدشات برقرار ہیں کیونکہ پارلیمنٹ کے ارکان کی تعداد عدالتی ارکان سے زیادہ ہے، جس کے نتیجے میں وہ آئندہ تمام تقرریوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

تنظیم نے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے برائے عدلیہ و وکلا کی آزادی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب قوانین کے تحت سیاسی اداروں کو حساس سیاسی مقدمات سننے والے ججوں کے انتخاب میں شامل کیا جائے تو عدالت پر قبضے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔

ایمنسٹی کے مطابق صدرمملکت کو نئی عدالت میں ججوں کی تعداد مقرر کرنے کا اختیار بھی حاصل ہے، جس سے حکمران حکومت ناپسندیدہ سمجھے جانے والے ججوں کی موجودگی میں عدالت کی ساخت تبدیل کر سکتی ہے۔

تنظیم نے کہا کہ یہ خدشات اس وقت مزید بڑھ گئے جب وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس اور پہلے چار ججوں نے 14 نومبر 2025 کو حلف اٹھایا، جو 27ویں آئینی ترمیم کے قانون بننے کے 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت بعد تھا اور ان تقرریوں کے لیے کوئی معیار یا جواز پیش نہیں کیا گیا۔

ایمنسٹی نے آرٹیکل 200 کے تحت ہائیکورٹ کے ججوں کے تبادلے کے طریقہ کار میں کی گئی تبدیلیوں پر بھی تشویش ظاہر کی۔ تنظیم کے مطابق ترمیم کے بعد صدر کو ججوں کے تبادلے کا مطلق اختیار دے دیا گیا ہے جس کے لیے محض جوڈیشل کمیشن کی سفارش درکار ہے اور اس انتظامیہ پر مبنی اختیار کے باعث ججوں کے تبادلے کو سزا کے طور پر استعمال کیے جانے کا امکان پیدا ہو گیا ہے، خاص طور پر ایسے ججوں کے خلاف جو حکومتی مؤقف کے خلاف فیصلے دیں۔

ایمنسٹی نے مزید کہا کہ ترمیم کے تحت تبادلہ قبول نہ کرنے والے جج کو معطل کر کے اس کا معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجا جا سکتا ہے، جسے اب آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت ایسے جج کو عہدے سے ہٹانے کا اختیار بھی حاصل ہے۔

تنظیم کے مطابق یہ اقدام عدلیہ کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے، جن کے تحت جج کو صرف نااہلی یا ایسے طرزِ عمل کی بنیاد پر ہٹایا جا سکتا ہے جو اسے اپنے فرائض انجام دینے کے قابل نہ رکھے۔

تاحیات استثنیٰ پر شدید اعتراض
ایمنسٹی نے 27ویں آئینی ترمیم کے تحت صدرِ مملکت، فیلڈ مارشل، مارشل آف ایئر فورس اور ایڈمرل آف دی فلیٹ کے عہدوں کو دیے گئے تاحیات فوجداری استثنیٰ پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

تنظیم کے مطابق اس نوعیت کا مکمل اور تاحیات استثنیٰ طاقت کے بے لگام اور من مانے استعمال کی راہ ہموار کرتا ہے اور قانون کی حکمرانی کو نظرانداز کرنے کا باعث بنتا ہے۔

ایمنسٹی نے کہا کہ یہ استثنیٰ انٹرنیشنل کونوینٹ برائے شہری و سیاسی حقوق کے آرٹیکل 26 کے تحت قانون کے تحت مساوات کے اصول کی خلاف ورزی ہے، جبکہ آرٹیکل 2(3) کے تحت قانونی چارہ جوئی کے حق کو بھی متاثر کرتا ہے۔

تنظیم نے واضح کیا کہ اگرچہ بین الاقوامی قانون میں محدود استثنیٰ کی گنجائش موجود ہے تاہم جنگی جرائم اور سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں جیسے معاملات میں اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مطابق استثنیٰ صرف ’سرکاری کارروائیوں‘ تک محدود ہوتا ہے جبکہ سنگین بین الاقوامی جرائم کو سرکاری کارروائی نہیں سمجھا جا سکتا۔

ایمنسٹی نے یہ بھی نشاندہی کی کہ 27ویں ترمیم کے تحت فیلڈ مارشل، مارشل آف ایئر فورس اور ایڈمرل آف دی فلیٹ کے عہدوں پر فائز فوجی افسران کو قومی ہیرو قرار دیا گیا ہے اور انہیں عہدے سے ہٹانے کا طریقہ کار وہی رکھا گیا ہے جو صدرِ مملکت کے مواخذے کے لیے آئین کے آرٹیکل 47 میں درج ہے، جس کے لیے جسمانی یا ذہنی نااہلی، آئین کی خلاف ورزی یا سنگین بدعنوانی اور پارلیمنٹ کی دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔