لاہور(نیوزڈیسک) مقامی سیشن عدالت نے سوشل میڈیا پر جوئے کی ایپلی کیشنز کی تشہیر سے متعلق مقدمے میں یوٹیوبرز رجب بٹ اور ندیم مبارک عرف نانی والا کی پیشگی ضمانت میں توسیع کر دی۔
دونوں ملزمان آج (منگل کو) اپنے وکلا کے ہمراہ عدالت پہنچے تو پولیس کی جانب سے سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج منصور احمد نے کیس کی سماعت کی، جس دوران نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ تفتیشی افسر اس وقت لاہور ہائیکورٹ میں جاری کارروائی میں مصروف ہیں۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے ریکارڈ پیش کرنے کے لیے مہلت دینے کی استدعا کی، جس پر عدالت نے رجب بٹ اور ندیم مبارک کی پیشگی ضمانت 26 جنوری تک بڑھا دی اور این سی سی آئی اے کو آئندہ سماعت پر ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
اس سے قبل عدالت نے حاضری مکمل ہونے کے بعد دونوں ٹک ٹاکرز کو کمرۂ عدالت سے جانے کی اجازت دے دی تھی۔
یہ دونوں کونٹینٹ کریئیٹرز پہلی بار قانونی مشکلات کا سامنا نہیں کر رہے۔
ستمبر 2025 میں این سی سی آئی اے نے رجب بٹ کے خلاف یوٹیوب اور ٹک ٹاک ویڈیوز اور محدود وقت کے لیے انسٹاگرام اسٹوریز میں آن لائن جوئے کی ایپس کی تشہیر کے الزام میں مقدمہ درج کیا تھا۔
اسی طرح ندیم مبارک کے خلاف بھی سوشل میڈیا پر جوئے کی ایپس کی تشہیر کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم انہیں ستمبر میں ایک اور کیس میں بھی گرفتار کیا گیا تھا، جس میں ان پر اپنی گاڑی پر جعلی رجسٹریشن نمبر آئی کے 804 لگانے کا الزام تھا۔ پولیس کے مطابق پوچھ گچھ کے دوران وہ جعلی نمبر پلیٹ کے بارے میں تسلی بخش جواب نہ دے سکے، جو کہ جیل میں قید پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے منسوب ہے۔
رجب بٹ کے وکیل کا لائسنس بحال
دوسری جانب اسی روز پنجاب بار کونسل نے رجب بٹ کے وکیل ایڈووکیٹ میاں علی اشفاق کا وکالت کا لائسنس بحال کر دیا۔
یہ فیصلہ ایک روز قبل لاہور ہائیکورٹ میں دائر اس درخواست کی سماعت کے بعد سامنے آیا، جس میں ایڈووکیٹ علی اشفاق نے اپنا لائسنس معطل کیے جانے کو چیلنج کیا تھا۔ عدالت نے پنجاب بار کونسل سے مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے وائس چیئرمین کو ہدایت کی تھی کہ وکیل کو ذاتی سماعت کا موقع دیا جائے اور معاملہ دوپہر دو بجے تک نمٹایا جائے۔
پنجاب بار کونسل نے میاں علی اشفاق کا لائسنس کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر اور جنرل سیکریٹری کی شکایت پر معطل کیا تھا، جن کا مؤقف تھا کہ انہوں نے بار کی ہڑتال کے باوجود کراچی کی عدالت میں رجب بٹ کی نمائندگی کی۔
منگل کو پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین محمد اشفاق نے بتایا کہ ایڈووکیٹ علی اشفاق کا لائسنس بحال کر دیا گیا ہے۔ حکم نامے میں کہا گیا کہ شکایت موصول ہونے کے بعد مختصر نوٹس جاری کیا گیا اور مناسب سماعت کا موقع دیے بغیر ہی ایگزیکٹو کمیٹی نے ان کا لائسنس معطل کر دیا تھا۔
تاہم حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا کہ ایڈووکیٹ علی اشفاق کی جانب سے ایگزیکٹو کمیٹی کے اختیار سے متعلق اعتراض کو غلط فہمی قرار دے کر مسترد کر دیا گیا۔
وائس چیئرمین نے معاملہ مزید کارروائی کے لیے بار کونسل کی ڈسپلنری کمیٹی کو بھجوا دیا اور دفتر کو ہدایت کی کہ لاہور ہائیکورٹ کو فیصلے سے آگاہ کیا جائے۔
پنجاب بار کونسل کے حکم نامے کے مطابق ایڈووکیٹ علی اشفاق نے اعتراض کی صورت میں درخواست دائر کی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ 31 دسمبر کا حکم آئین کے آرٹیکل 10 اے اور فطری انصاف کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے کیونکہ انہیں سنے بغیر یکطرفہ طور پر لائسنس معطل کیا گیا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے نہ تو وکلا برادری کے خلاف کوئی بدعنوانی کی اور نہ ہی وکالت کے پیشے کے وقار کو مجروح کیا۔ ان کے مطابق کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر شکایت جانبدارانہ، بدنیتی پر مبنی اور چند عہدیداران کی ذاتی مخالفت کا نتیجہ تھی۔
کراچی بار ایسوسی ایشن نے یہ ہڑتال اپنے سابق لائبریرین نصیر محمد کلہوڑو کے مبینہ استحصال کے خلاف کی تھی۔
پنجاب بار کونسل کے 31 دسمبر کے حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ دورانِ وکالت ایڈووکیٹ علی اشفاق نے وکلا برادری کے خلاف بیانات دیے، جنہیں پیشہ ورانہ بددیانتی قرار دیا گیا۔
اس بنیاد پر ایگزیکٹو کمیٹی نے متفقہ طور پر ان کا وکالت کا لائسنس معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور مستقل منسوخی کے لیے معاملہ ڈسپلنری کمیٹی کو بھجوا دیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ ایڈووکیٹ علی اشفاق سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے فوجی عدالت میں مکمل ہونے والے ٹرائل میں بھی بطور وکیل پیش ہوتے رہے ہیں۔









