راولپنڈی:(نیوزڈیسک)چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ مذاکرات کی بات اگر پانچ بڑوں کی ملاقات تک آ گئی ہے تو اسے نہ ہی سمجھا جائے۔
پارٹی کے بانی عمران خان سے ملاقات کے لیے جانے کے موقع پر داہگل ناکہ اڈیالا روڈ پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ مذاکرات کی بات اگر پانچ بڑوں کی ملاقات تک آ گئی ہے تو اسے نہ ہی سمجھا جائے کیونکہ نہ پانچ بڑے ملاقات کر سکتے ہیں اور نہ ہی اس کی ضرورت ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب ملاقاتیں ہی نہیں کرنے دی جاتیں تو مذاکرات کیسے ہوں گے؟۔ ہم ہر منگل کو آتے ہیں اور ملاقات کے بغیر واپس چلے جاتے ہیں۔ ایک ماہ سے زائد عرصہ ہو چکا ہے بانی سے کسی کی ملاقات نہیں ہوئی۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ملاقاتوں کو متنازع بنا کر بات کہاں سے آگے بڑھے گی، حالات معمول پر لانے کی بھاری قیمت مانگی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے جتنی کوشش کی حالات ٹھیک ہوں دوسری طرف سے اتنی ہی کوشش حالات خراب کرنے کے لیے کی گئی۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی اور ان کی جماعت کی سب سے بڑی قوت اس کے ورکرز ہیں۔ ریاست نے جتنی سختیاں کیں کارکنان نے برداشت کی ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 8 فروری کو پورے ملک میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال ہو گی اور بھرپور احتجاج ریکارڈ کرایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ حالات معمول پر لانے کے لیے عمران خان سے ان کی بہنوں اور وکلا کی ملاقات ضروری ہے۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اچکزئی صاحب اور علامہ صاحب کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ جو لوگ حالات کی بہتری کے لیے کام کر رہے ہیں ان کی ستائش ہونی چاہیے۔
بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ عمران اسماعیل کا انہیں بھی فون آیا تھا۔ انہوں نے واضح کر دیا کہ ہم اس کانفرنس میں شریک نہیں ہوں گے کیونکہ پارٹی کو اس پر تحفظات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے لوگوں کی بات پر پبلک میں کمنٹ نہیں کرتا۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے وضاحت کی کہ بھیک مانگنے کی بات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، ان کا مقصد یہ تھا کہ عدالتی احکامات، ایس او پیز اور قوانین موجود ہونے کے باوجود ملاقات نہیں دی جاتی اور اگر عدالتی احکامات کے باوجود ملاقات کی اجازت نہ دی جائے تو یہ بھیک ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا سسٹم ساکت ہو چکا ہے۔ گزشتہ سال فروری سے اب تک لیڈر شپ کی ملاقات نہیں ہوئی۔ اسٹریٹ موومنٹ کے حوالے سے بانی کی ہدایات ہیں۔ پارٹی کی کوئی کمیٹی ان ہدایات کو نظر انداز نہیں کر سکتی، احتجاج ہمارا حق ہے اور پارٹی کا لائحہ عمل موجود ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ہم نے کبھی مذاکرات کال آف نہیں کیے لیکن پانچ بڑوں کی بات کرنے کی کوئی منطق نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسپیکر صاحب نے نوٹیفکیشن کے حوالے سے آئندہ اجلاس تک فیصلہ کرنے کا کہا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ آئندہ اجلاس سے قبل اپوزیشن لیڈرز کا نوٹیفکیشن جاری ہو۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی سے توقع ہے کہ سندھ میں جلسے کی اجازت دی جائے گی۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کو پورا پروٹوکول دینے کی بات کی تائید کرتے ہیں۔ بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ سینیٹر علی ظفر کو بانی کا اعتماد حاصل ہے جب کہ ابڑو صاحب کو پارٹی سے نکال دیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے کبھی کوئی چیز سبوتاژ نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ میں تب تک عہدے پر ہوں جب تک بانی کا اعتماد حاصل ہے۔
علیمہ خان کی گفتگو
دریں اثنا عمران خان کی بہن علیمہ خان نے گورکھپور ناکا پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ قرآن خوانی میں تاخیر اس لیے ہوئی کیونکہ راستے بند کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو جہاں روکا جاتا ہے وہیں قرآن خوانی کر لیتے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے، بانی کو قید میں رکھ کر انہیں کیا ملے گا، آئین مسلسل قید تنہائی کے حوالے سے واضح ہے۔ یہ بانی سے ڈرے ہوئے ہیں کیوں کہ وہ باہر آ کر لوگوں کی آزادی کی بات کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت تباہ ہو چکی ہے۔ پولیس والوں سے اپیل ہے کہ محنت مزدوری کریں لیکن غیرقانونی احکامات نہ مانیں۔ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملک ان سے نہیں سنبھل رہا، لوگ ان سے تنگ آ چکے ہیں۔ ہم ملاقات کے لیے آتے ہیں لیکن ملاقات نہیں کرائی جاتی، میڈیا میں بانی کا نام تک نہیں لیا جاتا لیکن اسرائیلی وزیر اعظم کی خبریں چلتی ہیں۔
عمران خان کی بہنوں اور کارکنان کا دھرنا
واضح رہے کہ آج عمران خان اور بشریٰ بی بی سے اڈیالہ جیل میں ملاقات دن ہے، جس کے لیے پی ٹی آئی کارکنان گورکھپور ناکا پہنچنا شروع ہو گئے ہیں جب کہ پولیس کی بھاری نفری بھی تعینات کی گئی ہے۔ اڈیالہ جیل جانے والے راستے 5 مقامات پر ناکے لگا کر بند کر دیے گئے ہیں۔
اسی دوران فیکٹری ناکے پر پی ٹی آئی کارکنان نے قرآن خوانی کی۔ راولپنڈی پولیس نے دھرنے کی جگہ پر پانی کا ٹینکر لاکر پانی چھوڑ دیا جس پر دھرنے کی جگہ پر پانی پھیل گیا مجبوراً دھرنے کے شرکاء کو جگہ تبدیل کرنی پڑی اور پولیس نے بھی وہاں سے ٹینکر ہٹالیا۔ کارکنان کی جانب سے شدید نعرے بازی کی گئی۔
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ قرآن خوانی ہمارے دین کا حصہ ہے، گندا پانی پھینکا جانا شرم کی بات ہے، ہم جابر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کلمہ حق کہتے رہیں گے، ہم تلاوت بھی کریں گے اور آزادی کا نعرہ بھی لگائیں گے۔
بعد ازاں اڈیالہ روڈ فیکٹری ناکے پر علیمہ خان کا دھرنا جاری ہیں، جہاں ان کی دیگر دو بہنیں نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی موجود ہیں جب کہ کارکنان کی جانب سے شدید نعرے بازی کی جا رہی ہے، اس دوران عمران خان کی بقیہ دو بہنیں نورین نیازی اور عظمی خان بھی فیکٹری ناکے پر پہنچ گئیں۔
بعدازاں عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کا وقت ختم ہوگیا، بانی پی ٹی آئی کی بہنوں سمیت کسی بھی رہنما کو ملاقات کی اجازت نہ ملی۔
بانی کی تینوں بہنوں کا کارکنان سمیت فیکٹری ناکے پر دھرنا جاری ہے جس میں سلمان اکرم راجہ، عون عباس بپی، شاندانہ گلزار، نعیم پنجوتھا، مینا خان آفریدی اور شوکت بسرا موجود ہیں۔









