افغانستان کے صوبے تخار کے ضلع چاہ آب میں چینی کمپنی اور مقامی لوگوں کے درمیان تصادم کے دوران کم از کم تین مقامی باشندے اور ایک کمپنی محافظ کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق یہ واقعہ پیر کو اس وقت پیش آیا جب چین افغانستان ڈایولونگ زیرن مائننگ اینڈ پروسیسنگ کمپنی کی گاڑی کو احتجاج کے دوران آگ لگا دی گئی۔
تخار صوبہ افغانستان کے شمالی اور وسطی علاقوں خاص طور پر چاہ آب ضلع میں سونے کے اہم ذخائر کے لیے مشہور ہے۔ یہاں کی سونے کی کان کا ٹھیکہ وزارت معدنیات اور تیل نے ایک چینی کمپنی کو دیا ہے جس کے افغان شراکت دار بھی ہیں۔
افغان میڈیا کے مطابق، جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب مقامی لوگوں نے سونے کی کان کنی کے لیے کام کرنے والی چینی کمپنی کے خلاف احتجاج کے دوران کمپنی کے گارڈز کے ساتھ جھگڑا کیا۔
رپورٹ کے مطابق، مقامی لوگ کمپنی پر الزام لگا رہے ہیں کہ وہ غیر قانونی طور پر کان کنی کر رہی ہے اور علاقے کی فطری وسائل کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
افغانستان کے وزارت معدنیات اور تیل کے ترجمان ہمایوں افغان نے تصدیق کی ہے کہ چاہ آب ضلع میں ایک ٹھیکیدار کمپنی کے ملازمین اور مقامی باشندوں کے درمیان سونے کی کان پر جھڑپ ہوئی، جس کے نتیجے میں جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزارت کا ایک وفد واقعے کی مکمل تحقیقات کے لیے تخار روانہ کر دیا گیا ہے اور مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔
سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کئی مقامی افراد کان کی سائٹس پر دھاوا بول کر کمپنی کے آلات اور مشینری کو آگ لگا رہے ہیں۔
Protesters today in Chah Ab District of Takhar province of #Afghanistan set fire to vehicles and equipment belonging to Taliban-affiliated gold mining companies. pic.twitter.com/dVfXUfcT6A
— Habib Azizi (@HabibAzizi0) January 5, 2026
اطلاعات کے مطابق یہ کشیدگی کئی دنوں سے جاری ہے اور اس دوران متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
Six people were killed & 16 others were injured today in Takhar after residents protested against the method of gold extraction being carried out by a company cooperating with the Taliban, according to local reports. pic.twitter.com/Q08LeVDVG9
— khalilminawi (@khminawi) January 6, 2026
افغان وزارت معدنیات نے کہا ہے کہ جھڑپ کی بنیادی وجہ مقامی آبادی اور ٹھیکیدار کمپنی کے درمیان اختلافات ہیں۔
افغانستان کے ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ کانوں کی شفاف، قانونی اور منصفانہ انتظام کاری نہ صرف قومی آمدنی بڑھا سکتی ہے بلکہ روزگار کے مواقع بھی پیدا کر سکتی ہے اور ایسے تصادم کو روکا جا سکتا ہے۔
ماہر اقتصادیات شمس الرحمٰن احمدزئی نے کہا کہ اگر اسلامی امارت اس شعبے کو درست طریقے سے منظم کرنا چاہتی ہے تو مقامی لوگوں کی فکری ضروریات کو اولین ترجیح دینا ہوگی۔
ایک اور ماہر اقتصادیات عبدالغفار نظامی نے مزید کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کار جو پہلے ہی اس شعبے میں سرمایہ کاری کر چکے ہیں، مزید سرمایہ کاری سے گریز کر سکتے ہیں اور نئے سرمایہ کار بھی حوصلہ شکنی محسوس کر سکتے ہیں، جو منفی تاثر پیدا کرے گا۔









