بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

مذاکرات، سیاسی کارکن رہا، مقدمات ختم کئے جائیں، قومی ڈائیلاگ کانفرنس

اسلام آباد:(نیوزڈیسک)نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کی کانفرنس اعلامیہ جاری کردیا جس میں کہا ہے دو طرفہ کمیٹیاں تشکیل دی جائیں، حکومتی کمیٹی وزیراعظم، صدر اور نواز شریف تشکیل دیں، اپوزیشن کمیٹی کو سیاسی قیدیوں تک رسائی دی جائے، سیاسی کارکنان کو رہا کرکے سیاسی مقدمات ختم کیے جائیں، میڈیا کی سینسر شپ ختم کی جائے۔ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے زیر اہتمام آج اسلام آباد میں قومی ڈائیلاگ کانفرنس سابق قائد اعوان شہزاد وسیم کی رہائش گاہ پر منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں سیاسی جماعتوں، وکلاء اور دانشوروں کی پہلی نشست ہوئی۔ کانفرنس میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے طریقہ کار اور درجہ حرارت میں کمی کی تجاویز پیش کی گئیں۔ فواد چوہدری نے استقالیہ کلمات میں قومی ڈائیلاگ کمیٹی کے ایجنڈا اور لائحہ عمل سے آگاہ کیا۔

کانفرنس میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، سابق گورنر عمران اسماعیل، لیاقت بلوچ، وسیم اختر، بیرسٹر سیف، محمود مولوی، سابق اپوزیشن لیڈر سینیٹ ڈاکٹر وسیم شہزاد، بانی پی ٹی آئی کے بہنوئی حفیظ اللہ نیازی، شاہد خاقان عباسی، جنرل (ر) نعیم لودھی، فیصل چوہدری، لیاقت بلوچ، وسیم اختر، شیر افضل مروت اور دیگر نے شرکت کی۔سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا جو مقام ہے ایسا کبھی نہیں دیکھا، ہم نے بھارت کو شکست دی، ملک میں سیاسی استحکام بات چیت کے ذریعے ہی آسکتا ہے، ہماری دفاعی فورسز دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہیں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فورسز کا ساتھ دینا چاہیے، ہمیں ایک دوسرے کو غداری کا لیبل لگانے کے بجائے بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے۔

عمران اسماعیل نے کہا کہ نیشنل ڈائیلاگ کا ایک ماہ پہلے آغاز ہوا اب یہ ڈائیلاگ ایک کمیٹی کی حیثیت اختیار کرگیا ہے، پاکستان میں اس وقت سیاسی صورت حال نارمل نہیں ہے، ملک کو ترقی کی راہ پر لے جانے کے لیے سب کو مل کر چلنا ہوگا، جب سے ہوش سنبھالا ملک میں دہشت گردی کی لہر دیکھی ہے، ملک میں دہشت گردی کے خلاف سب کو متحد ہونا پڑے گا۔حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کس حد تک تعاون کر سکتے ہیں یہ اہم ہوگا دعا ہے اس کا کوئی حل نکل آئے۔بیورو چیف ایکسپریس نیوز عامر الیاس رانا نے کہا کہ ہم نے میڈیا کے طور پر خود کو بکاؤ کے طور پر پیش کیا، والیم 10 پر بہت پروگرامز ہوئے، آر اوز کے الیکشن کی بات ہوتی رہی، آر ٹی ایس سسٹم پر بات کی جاتی رہی جب کہ اصل فریق پاکستان کے عوام ہیں،

عمران خان کو آج تک سچ نہیں بتایا گیا، محمود خان اچکزئی کو اس مکالمے میں شرکت کرنی چاہیے، پی ٹی آئی کے لوگ آپس میں بھی ڈرتے ہیں کہ کہیں شکایت نہ ہو جائے۔جنرل (ر) زاہد نے اظہار خیال کیا کہ دہشت گردی کے خلاف پولیس یا فوج میں جو شہادتیں ہوئیں وہ سب پاکستان کے لیے ہیں، شہیدوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔علینہ شگری نے کہا کہ مکالمے میں تحریک تحفظ آئین پاکستان اور پی ٹی آئی کو بھی شرکت کرنی چاہیے تھی۔بیرسٹر سیف علی خان نے کہا کہ سیاسی طور پر ملک میں تقسیم ہے اعتماد کی فضاء قائم کرنے کی ضرورت ہے، ایک بداعتمادی یہ بھی ہے کہ بانی پی ٹی آئی جیل سے باہر نکل کر سیاسی عدم استحکام پیدا کریں گے اس لیے رکاوٹیں ڈالی جاتی رہی ہیں، سازگار ماحول پیدا کرنا انتہائی ضروری ہے۔

صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن ہارون رشید نے کہا کہ ہمارے ملک میں عدلیہ نے فوجی آمروں کو خوش آمدید کہا، جب جب مارشل لاء لگا سیاسی جماعتوں کا بھی کردار رہا، سیاسی جماعتوں کو اکھٹا ہونا پڑے گا سیاست دانوں کو خود مضبوط ہونا چاہیے، اداروں کو آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔رہنما ایم کیو ایم وسیم اختر نے کہا کہ جن لوگوں کو یہاں ہونا چاہیے وہ نہیں ہیں وہ اس لیے نہیں ہیں کیونکہ وہ بینیفشری ہیں، سیاسی جماعتوں کے بجائے عوام مشکلات سہہ رہی ہیں، جو 1988ء میں وزیراعظم بننا چاہتا تھا وہ آج بھی وزیر اعظم بننا چاہ رہا ہے، کرپشن میں سیاست دانوں سمیت سب ملوث ہیں، میں چاہتا ہوں ملک میں کنال بنیں، ملک میں صوبے بنیں یہ تاثر نہیں جانا چاہیے ہم بھی کسی چکر میں ہیں، سندھ میں کرپشن ہو رہی ہے عوام پہلے ووٹ ڈالنے کے کام آتی تھی اب تو عوام ووٹ ڈالنے کے کام بھی نہیں آتی، اصل میں تو یہ سب کچھ عوام سہہ رہی ہے۔

رہنما جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا کہ جب کوئی حکومت میں ہوتا ہے اس کا بیانیہ ہوتا ہے سب ٹھیک ہے، جب کوئی اپوزیشن میں ہوتا ہے تو کہتا ہے سب کچھ تباہ ہو گیا، ہمیں اخلاص کے ساتھ مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے، لاپتا افراد، آزادی صحافت، صوبوں کے مابین ہم آہنگی، عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کرنا بھی ڈائیلاگ کا حصہ ہونا چاہیے۔فواد چوہدری نے کمیٹی کا اعلامیہ پڑھ کر سنایا جس میں بتایا گیا کہ ارکان متفق ہیں کہ مذاکرات کے لیے حکومتی اور اپوزیشن کی کمیٹیاں بنائی جائیں، حکومتی کمیٹی وزیراعظم شہباز شریف، نواز شریف اور صدر مملکت بنائیں جب کہ اپوزیشن کی کمیٹی کی تشکیل کیلئے قیدیوں سے ملاقات کے لیے مواقع فراہم کیے جائیں۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اپوزیشن کمیٹی سیاسی قیدیوں کے ساتھ مل کر ڈائیلاگ کو آگے بڑھائے، سینیٹ اور قومی اسمبلی میں فوری طور پر اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی کی جائے، خواتین سیاسی

ورکروں کو فوری طور پر رہا کیا جائے، سیاسی کارکنان کی رہائی کے بعد حکومت پر مذاکرات کا اعتماد بڑھے گا۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ میڈیا کی سینسر شپ کو ختم کیا جائے اور سیاسی افراد پر مقدمات کا خاتمہ کیا جائے، سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی جائے۔کانفرنس میں شہدا کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی گئی، نیشنل ڈائیلاگ میں بات چیت کے عمل کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ کمیٹی کا آئندہ اجلاس ملتان میں ہوگا۔