اٹک:(نیوزڈیسک)جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ سیاسی پارٹیاں اقتدار میں آنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کی کاسہ لیسی کرتی ہیں جبکہ آئین میں اداروں کی حدود کا واضح تعین ہے۔15 جنوری کو عوامی ریفرنڈم ہوگا، آئی پی پیزمافیا کے خلاف بھی نئے سرے سے منظم تحریک کا آغاز کریں گے، امیر جماعت اسلامی
اٹک میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد آج تک آزادی کے مقاصد حاصل نہیں ہوسکے، افسر شاہی انگریز کے نظام کی محافظ ہے اور سول، ملٹری اسٹیبلشمنٹ انگریز کا دیا گیا نظام چلا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیوروکریسی اپنے آپ کو عوام کا خادم نہیں آقا تصور کرتی ہے، سیاسی پارٹیاں اقتدار میں آنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کی کاسہ لیسی کرتی ہیں۔
امیرجماعت اسلامی نے کہا کہ ملک میں چہرے نہیں نظام بدلنے کی ضرورت ہے، آئین میں اداروں کی حدود کا واضح تعین ہے۔
انہوں نے کہا کہ طاقت وروں سے کہنا چاہتا ہوں غداری کے سرٹیفکیٹ تقیسم کرنا چھوڑ دیں، فارم 47 کی اسمبلیوں نے جمہوریت دشمن بلدیاتی قانون پاس کیا، بدیاتی کالے قانون کو مسترد کرتے ہیں اور 15 جنوری کو عوامی ریفرنڈم ہوگا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ آئی پی پیزمافیا کے خلاف بھی نئے سرے سے منظم تحریک کا آغاز کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ کشمیر پر حق خودارادیت کے بغیر کوئی ثالثی قبول نہیں، بھارت مسلمانوں کا خیر خواہ نہیں ہوسکتا۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان بھارت سے امیدیں نہ لگائے، افغانستان اور پاکستان امن کے لیے بات چیت کریں، مسلمان ممالک میں جنگ قبول نہیں۔
امیرجماعت اسلامی نے کہا کہ پاکستان کی فوج کسی صورت غزہ نہیں جانی چاہیے، وزیراعظم قوم کی ترجمانی کریں۔









