بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ایران میں مظاہروں کے درمیان پاکستان کی موثر سفارت کاری کی عالمی سطح پر پذیرائی

ایران میں دس روز سے جاری مظاہروں میں کم از کم 50 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، لیکن اس کشیدہ صورتحال میں پاکستان کی سفارت کاری کو عالمی سطح پر مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے۔ خطے میں امن اور استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو اہم قرار دیا جا رہا ہے، اور امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے بھی پاکستان کی علاقائی اہمیت اور موثر سفارتی اقدامات کا اعتراف کیا ہے۔
دی نیشنل انٹرسٹ کے مطابق، وینزویلا کی صورتحال کے بعد واشنگٹن کے سخت گیر حلقوں میں ایران کو اگلا ہدف بنانے کا امکان پیدا ہوا، اور سابق صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ مظاہرین پر کریک ڈاؤن کی صورت میں امریکہ مداخلت کر سکتا ہے۔ تاہم جریدے کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ وینزویلا جیسا رویہ ناکام اور جنوبی ایشیا میں ایک پیچیدہ بحران پیدا کر سکتا ہے۔
جریدے کے مطابق پاکستان، جو امریکہ کا اہم شراکت دار ہے، ایران کے خلاف کسی جارحانہ کارروائی کی حمایت نہیں کرتا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی صدر ٹرمپ سے ملاقات کے بعد پاکستان اور امریکہ کے تعلقات بھی بہتر ہوئے ہیں۔ پاکستان نے زور دیا ہے کہ ایران میں تشدد یا حکومتی نظام کی تبدیلی کی حمایت نہیں کرے گا، کیونکہ اس سے دہشت گردوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے اور خطے میں غیر استحکام پیدا ہوگا۔
دی نیشنل انٹرسٹ نے یہ بھی کہا کہ ایران کی طاقتور فوج اور بیلسٹک میزائل پروگرام کی وجہ سے خطے میں فوجی حل ممکن نہیں، اور کشیدگی کم کرنے کے لیے امریکہ کو علاقائی شراکت داروں، خصوصاً ایسے ممالک سے فائدہ اٹھانا چاہیے جن کا استحکام میں حقیقی مفاد ہو۔
پاکستان نے ماضی کے برعکس ایران اور سعودی عرب کے درمیان سلامتی کے معاہدے کا خیرمقدم کیا اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں فعال کردار ادا کیا۔ جریدے کے مطابق پاکستان کی موثر سفارت کاری، عالمی اثر و رسوخ اور قومی قیادت کی بصیرت کی بدولت خطے میں ایک نیٹ ریجنل سٹیبلائزر کے طور پر ابھر رہا ہے، اور مشرق وسطیٰ میں اس کا اہم سفارتی کردار عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔