پشاور(نیوز ڈیسک) خیبر پختونخوا حکومت نے ضم اضلاع میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے بڑے سولر منصوبے کے آغاز کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت سات اضلاع میں محسود سولر منصوبہ شروع کیا جائے گا، جس کا مقصد عوام کو بجلی کی بنیادی سہولت فراہم کرنا ہے۔
پشاور سے نمائندہ ذیشان کاگل کے مطابق خیبر پختونخوا انرجی ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (KPEDO) نے اس منصوبے کے لیے باقاعدہ پریزنٹیشن تیار کر لی ہے۔ منصوبہ خیبر، کرم، باجوڑ، مہمند، اورکزئی سمیت دیگر ضم اضلاع میں شروع کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق ان اضلاع میں عوام کو دو کلو واٹ کے سولر سسٹمز فراہم کیے جائیں گے۔ ابتدائی ہوم ورک مکمل کر لیا گیا ہے اور پہلے مرحلے میں تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار صارفین کو یہ سولر سسٹمز دیے جائیں گے۔ ہر سسٹم میں سولر پینلز، انورٹر اور دیگر ضروری آلات شامل ہوں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے پر مجموعی طور پر 13 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔ منصوبے کا مقصد ضم اضلاع کے عوام کو درپیش بجلی کے شدید مسائل کو کم کرنا اور توانائی کی متبادل سہولت فراہم کرنا ہے۔
صوبائی حکومت کے مطابق یہ منصوبہ اے آئی پی پروگرام کے تحت جلد شروع کیا جائے گا تاکہ ضم اضلاع میں رہنے والے عوام کی مشکلات میں کمی لائی جا سکے اور انہیں پائیدار توانائی کی سہولت میسر آ سکے۔









