پشاور:(نیوزڈیسک) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت افغانستان اور کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کی نمائندگی کی بجائے اپنے صوبہ اور ملک میں پائیدار امن کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھائے۔ منگل کے روز گورنر ہاؤس پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت خیبرپختونخوا کے بندوبستی و ضم اضلاع میں دہشتگردی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور پولیس و مسلح افواج دہشتگردوں کے خلاف جنگ میں جان کی قربانیاں دے رہی ہیں۔
گورنر نے کہا کہ صوبائی حکومت دہشتگردی کے واقعات میں افغانستان کی سرزمین ملوث ہونے کے ثبوت مانگتی ہے، اور سوال اٹھایا کہ کیا کبھی اپنی ریاست سے بھی ثبوت طلب کیے جاتے ہیں، جبکہ پوری دنیا جانتی ہے کہ افغان سرزمین ہمارے صوبہ اور ملک میں دہشتگردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ صوبائی حکومت افغانستان اور TTP کی نمائندگی کی بجائے اپنے صوبہ میں امن قائم کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے اور آئی ڈی پیز کے تحفظ کے لیے ابھی سے تیاری کرے۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبہ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، پولیس کی پیشہ ورانہ استعداد بڑھانے کے لیے جدید ہتھیار اور بلٹ پروف گاڑیاں فراہم کرنی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پولیس بہادر ہے، لیکن صوبائی حکومت نے ان کی استعداد بڑھانے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے اور وفاق کی جانب سے فراہم کی گئی گاڑیوں کو لینے سے بھی انکار کیا گیا۔
گورنر نے مزید کہا کہ صوبے میں امن قائم رکھنے کے لیے سب کو متحد ہو کر کام کرنا ہوگا اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو سندھ دورے کے دوران فل سیکیورٹی فراہم کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے ہمیشہ انتشار کی سیاست کی ہے اور ان کے پاس کوئی ایسا فرد نہیں جو وفاق میں اپوزیشن لیڈر بننے کے قابل ہو۔









