حکومت پاکستان کی جانب سے افغانستان کے ساتھ غیر منظم سرحدی نقل و حرکت کی روک تھام اور موثر بارڈر مینجمنٹ کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔سال 2025 میں نافذ کیے گئے ان اقدامات نے نہ صرف انسدادِ پولیو بلکہ قومی سلامتی اور معاشی استحکام کے اہداف کے حصول میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں 2025 کے دوران پولیو کے مجموعی طور پر صرف 30 کیسز رپورٹ ہوئے جو 2024 کے مقابلے میں 59.5 فیصد کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ کمی صحتِ عامہ کی کامیابی کے ساتھ ساتھ موثر بارڈر مینجمنٹ پالیسی کا واضح ثبوت ہے جس کے ذریعے سرحد پار سے آنے والے خطرات کو محدود کیا گیا۔
غیر قانونی طور پر مقیم لاکھوں افغان شہریوں کی واپسی کے باعث سرحدی علاقوں میں پولیو وائرس کے پھیلا میں نمایاں کمی آئی جبکہ پاک افغان سرحد پر سخت نگرانی، قانونی آمدورفت کے نظام اور سیکیورٹی چیک پوائنٹس نے دہشت گردی اور اسمگلنگ کے راستے بھی محدود کر دیے۔
سال 2025 میں خیبر پختونخوا پولیو سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ رہا جہاں 19 کیسز رپورٹ ہوئے، تاہم سیکیورٹی کنٹرول میں بہتری کے باعث ویکسینیشن مہمات پہلے سے زیادہ محفوظ اور مثر ثابت ہوئیں۔
اسی دوران پولیو ٹیموں پر فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی جانب سے حملوں کی تعداد بھی کم ہو کر 18 رہ گئی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں واضح کمی ہے۔
سخت سرحدی ضابطوں کے تحت سیکیورٹی فورسز نے گزشتہ روز طورخم سرحدی گزرگاہ سے 21 ہزار گولا بارود کے رائونڈ ضبط کیے، جو دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف موثر کنٹرول کا ثبوت ہے۔
ماہرین کے مطابق بہتر سیکیورٹی اور موثر بارڈر مینجمنٹ کے مثبت معاشی اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ غیر قانونی نقل و حرکت میں کمی، اسمگلنگ نیٹ ورکس پر کنٹرول اور محفوظ سرحدی ماحول کے باعث قانونی تجارت، تجارتی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ 2026 میں مربوط ویکسینیشن، بہتر سیکیورٹی اور مضبوط سرحدی نگرانی کے ذریعے نہ صرف پولیو بلکہ دہشت گردی کے خاتمے کی جانب پیش رفت مزید تیز ہو گی۔









