فیصل آباد(نیوزڈیسک) پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) کے گودام سے 2 لاکھ کلو گندم غائب ہوگئی۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے 2 ہزار بوری گندم مٹی میں تبدیل ہونے کے معاملے میں چھاپہ مار کر عملے کے 4 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق 7 کروڑ روپے مالیت کی گندم خرد برد کی گئی ہے، گودام انچارج سمیت 7 افراد کیخلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق تاندلیانوالہ میں واقع پاسکو کے گودام میں ذخیرہ گندم میں خرد برد کی اطلاع ملی، جس پر سب انسپکٹر اجمل حسین کی سربراہی میںنے چھاپہ مارا۔
ایف آئی اے ٹیم نے ’پاسکو‘ کے افسران کے ہمراہ گودام میں انسپکشن کی تو گندم کی 100 کلو گرام کی 2 ہزا ر بوریوں کی جگہ مٹی ڈال کر بوریاں گودام میں رکھی گئیں۔
حکام کے مطابق چھاپے کے دوران 50 کلو گرام گندم کے 4 ہزار بیگ اور 8 ہزار باردانہ غائب پایا گیا، ابتدائی انکوائری کے مطابق 7 کروڑ روپے مالیت کی گندم خرد برد کر کے پرائیویٹ افراد کو فروخت کی گئی۔
موقع سے ایک اسسٹنٹ پرچیز آفیسر اور 3 چوکیداروں کو حراست میں لے لیا گیا جبکہ گودام کے انچارج اسسٹنٹ پرچیز آفیسر سمیت عملے کے 7 افراد اور پرائیویٹ بروکر کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
ایف آئی اے کے مطابق زونل ہیڈ پاسکو کے کردار کا تعین تحقیقات کے بعد ہو گا۔









