بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بھارتی الزامات مسترد، پرامن و خوشحال ایران دیکھنا چاہتے ہیں: دفتر خارجہ

 

اسلام آباد: (نیوزڈیسک) پاکستان نے کہا ہے کہ ایران کی صورت حال پر نظر ہے، ایران کے مسئلہ کا پرامن حل چاہتے ہیں، امن کے لیے کردار ادا کرتے رہیں گے، خطے میں امن و استحکام چاہتے ہیں، بھارتی آرمی چیف کے بے بنیاد الزامات مسترد کرتے ہیں۔

وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا ہے کہ ایران کے مسئلے کا پرامن حل چاہتے ہیں، پاکستان امن کیلئے کردارادا کرتا رہے گا، ایران کے امن و استحکام کی حمایت کرتے ہیں، امید ہے ایران اپنے بحران پر جلد قابو پا لے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران خطے کا اہم ملک ہے، پاکستان پر امن خوشحال ایران دیکھنا چاہتا ہے، پاکستان کو یقین ہے کہ ایران موجود سخت حالات سے نکل جائے گا، پاکستان کو ایرانی لیڈر شپ اور عوام پر پورا یقین ہے کہ وہ ان حالات سے نکلیں گے۔

دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے بھارتی آرمی چیف کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دہشت گردی کے الزامات سیاسی مقاصد کے لیے گھڑی گئی من گھڑت کہانی قرار دے دیئے۔

طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ بھارتی آرمی چیف کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہیں، پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف قربانیاں عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہیں، بھارت کی جانب سے دہشت گردی کے الزامات سیاسی مقاصد کے لیے گھڑی گئی من گھڑت کہانی ہیں، بھارتی بیان بازی پرانی، روایتی اور گمراہ کن ہے، پاکستان کے خلاف بھارتی الزامات خود بھارت کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارتی نیوی کے حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو کی گرفتاری ہمارے سامنے ہے، افغانستان سمیت خطے میں بھارت کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورکس کی نشاندہی کی گئی، بھارت کی جانب سے ماورائے عدالت قتل اور ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کی مثالیں ریکارڈ پر ہیں، پاکستان نے بھارت کو اشتعال انگیز بیانات سے باز رہنے کا مشورہ دیا، بھارت میں بڑھتا ہوا انتہاپسندانہ اور مذہبی بنیادوں پر تشدد خطے کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔

ایران سے تجارت پر ٹیرف کا جائزہ لے رہے ہیں

امریکا کے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ یہ ایک جاری صورتحال ہے، جائزہ لے رہے ہیں۔

ترجمان نے واضح کیا کہ پاک ایران تجارت عالمی تجارتی قوانین کے تحت ہو رہی ہے، پاکستان کے امریکہ کے ساتھ اچھے تجارتی تعلقات ہیں، پاکستان ایران اور امریکا دونوں سے تجارت کرنا چاہتا ہے۔

امریکا ویزے بحال کر دے گا

انہوں نے کہا کہ ہم نے امریکی ویزوں پر پابندیوں سے متعلق رپورٹس دیکھی ہیں، اس معاملے پر امریکی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں، امریکا اپنی ویزا پالیسی پر نظر ثانی کررہا ہے، امید ہے امریکہ جلد پاکستان کے لیے ویزے بحال کرے گا، امیگرینٹس پالیسیوں کے حوالے سےہم یوایس اتھارٹی کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستانی نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے او آئی سی کے غیر معمولی اجلاس میں اپنے رفقا سے ملاقاتوں میں فلسطین اور کشمیر کے معاملات کو اجاگر کیا، انہوں نے او آئی سی کے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر کے عوام کے حقِ خود ارادیت کے حصول کے لیے اپنا کردار مزید مضبوط کریں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے ازبکستان، بنگلہ دیش، مالدیپ اور مصر کے ہم منصبوں کے ساتھ ملاقاتیں کیں اور سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ اور او آئی سی کے سیکرٹری جنرل سے بھی مذاکرات کیے، اس دوران انہوں نے نئے دفتر کی عمارت پر پاکستانی پرچم بھی لہرایا اور رِبن کٹنگ کے ذریعے عمارت کی افتتاحی تقریب میں حصہ لیا، جس کے بعد سیاہ اور سبز درختوں کی پودے لگانے کی تقریب بھی منعقد ہوئی۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ نائب وزیراعظم نے اس موقع پر سعودی حکام کی جانب سے فراہم کردہ تعاون کو سراہا اور کہا کہ حکومت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بہتر اور مؤثر قونصلر خدمات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے، یہ بات بھی واضح کی گئی کہ پاکستان فلسطین اور کشمیر کے حقِ خود ارادیت کے اصولی موقف پر قائم ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس کے تحفظ کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھے گا۔

طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ وزیراعظم شہبازشریف کی امیر قطرسےٹیلی فون پر بات ہوئی، دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر اظہار کا اطمینان کیا، دونوں رہنماؤں نے روابط جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ صدر آصف علی زرداری بحرین کا دورہ کررہے ہیں، صدرمملکت کے دورے کے دوران دوطرفہ اورعلاقائی وعالمی امور زیر بحث آئیں گے،صدرمملکت کا یہ دورہ بحرین کے ساتھ پاکستان کے گہرے تعلقات کا مظہر ہے۔

وزارت خارجہ کے مطابق اوآئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں پاکستان نے صومالی لینڈ سے متعلق اپنے مؤقف کا اعادہ کیا، نائب وزیراعظم نے اسرائیل کے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کی شدید مذمت کی، صومالیہ کی خودمختاری پر حملہ ناقابل قبول ہے۔