سردیوں کے موسم میں جسم میں مختلف تبدیلیاں آتی ہیں جو سوزش والی بیماریوں اور اس کے نتیجے میں ہونے والے درد کو بڑھا دیتی ہیں، خاص طور جوڑوں کے درد جیسے کہ گٹھیا (آرتھرائٹس) کے مریض زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق سردی میں خون کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں جس سے جوڑوں تک خون اور غذائیت کی فراہمی کم ہو جاتی ہے اور درد و اکڑن بڑھ جاتی ہے۔
اس کے علاوہ ہوا کے دباؤ میں کمی جوڑوں کے اردگرد ٹشوز پر دباؤ ڈالتی ہے جس سے تکلیف میں اضافہ ہوتا ہے۔
سرد موسم میں جوڑوں کو فعال رکھنے والا سیال گاڑھا ہو جاتا ہے جبکہ خشک اور ٹھنڈی ہوا ناک میں سوجن پیدا کر کے دمہ، نزلہ، سائنوس اور دیگر سانس کی بیماریوں کو بھی بگاڑ سکتی ہے۔
دھوپ کی کمی کے باعث وٹامن ڈی کی سطح کم ہو جاتی ہے جو جسم میں سوزش کو کنٹرول کرنے کے لیے ضروری ہے۔
ماہرین نے سردیوں میں سوزش کو قابو میں رکھنے کے لیے چند آسان مگر مؤثر اقدامات تجویز کیے ہیں:
سوزش کم کرنے کے لیے 8 اہم اقدامات
ماہرین کا کہنا ہے کہ سردیوں میں مچھلی، سبز پتوں والی سبزیوں، پھل، خشک میوہ جات، ہلدی اور ادرک پر مشتمل غذاؤں کا استعمال بڑھا دیں۔
پانی زیادہ پئیں تاکہ جسم میں خشکی نہ ہو۔ ہلکی پھلکی ورزش جیسے چہل قدمی یا یوگا کی عادت اپنائیں، وزن کو قابو میں رکھیں۔
روزانہ 7 سے 9 گھنٹے کی نیند پوری کریں۔ ذہنی دباؤ کم کرنے کے لیے مراقبہ یا گہری سانس کی مشق کریں۔
گرم کپڑے پہنیں اور جسم کو گرم رکھیں۔ گھروں میں نمی برقرار رکھنے کے لیے ہیومیڈیفائر کا استعمال لازمی کریں۔
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟
سرد موسم کے دوران جوڑوں میں سوجن یا درد مسلسل بڑھتا جائے، جوڑوں میں سوجن شدید سرخی آ جائے، دمہ یا سانس کے مسائل بگڑ جائیں، یا ہاضمے میں غیر معمولی تبدیلیاں آئیں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق بروقت احتیاط اور مناسب طرزِ زندگی اپنا کر سردیوں میں بھی سوزش والی بیماریوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔









