اسلام آباد(نیوزڈیسک) سپریم کورٹ نے سرکاری ملازمین اور افسران کے حق میں بڑا فیصلہ سنا دیا، عدالت نے واضح کر دیا کہ پنشن کوئی رعایت نہیں بلکہ آئینی حق ہے، 20 سال سروس مکمل کرنے والے ملازم پنشن کے حقدار ہیں۔
سپریم کورٹ نے پنشن سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے محمد عثمان کی پنشنری فوائد سے متعلق درخواست منظور کر لی۔ عدالت نے فیڈرل سروس ٹریبونل کا پنشن مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
سپریم کورٹ کے مطابق درخواست گزار نے ستمبر دوہزار سات میں استعفیٰ دیا تھا اور اس وقت وہ بیس سال کی کوالیفائنگ سروس مکمل کر چکے تھے، جبکہ محکمہ نے پچیس سال سروس کی شرط عائد کر کے پنشن درخواست مسترد کی۔
عدالت نے قرار دیا کہ قانون کے مطابق بیس سال سروس پر پنشن کا حق لاگو تھا، پنشن دیر سے مانگنے پر ختم نہیں ہوتی اور اس پر لمیٹیشن ایکٹ بھی لاگو نہیں ہوتا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ریگولیشن چارسو اٹھارہ کا تعلق صرف سروس کی گنتی سے ہے، محکمہ اور ٹریبونل کی تشریح قانونی طور پر ناقابل قبول ہے، اور محمد عثمان قانون کے مطابق پنشنری فوائد کے مکمل حقدار ہیں۔
فیصلہ جسٹس شفیع صدیقی نے تحریر کیا جبکہ بنچ میں جسٹس نعیم اخترافغان، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب بھی شامل تھے۔









