بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ٹیکسز اور سرچارجز نے بجلی صارفین کو شدید دباؤ میں ڈال دیا، نیپرا رپورٹ

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی پاور سیکٹر اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 2025 کے مطابق ٹیکسز، ڈیوٹیز اور مختلف سرچارجز کے باعث بجلی کی قیمتیں عام صارف کے لیے ناقابل برداشت ہو چکی ہیں۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ بجلی کے نرخوں میں اضافے کی بڑی وجہ پیداواری لاگت نہیں بلکہ حکومتی محصولات اور اضافی چارجز ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2023-24 کے دوران بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے نقصانات 18.31 فیصد رہے، جبکہ نیپرا کی جانب سے ان کے لیے مقرر کردہ حد 11.77 فیصد ہے۔ ان اضافی نقصانات کے نتیجے میں صرف ایک سال کے دوران گردشی قرض میں 276 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔
نیپرا نے بتایا کہ اسی مالی سال میں بجلی بلوں کی ریکوری کی شرح 92.44 فیصد رہی۔ وصولیوں میں کمی کے باعث گردشی قرض میں مزید 314 ارب 51 کروڑ روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد کے الیکٹرک سمیت تمام ڈسکوز کے واجبات 2 ہزار 320 ارب روپے سے تجاوز کر گئے۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ ملک میں بجلی پیدا کرنے کی مجموعی صلاحیت 45 ہزار 888 میگاواٹ ہے، تاہم ایک سال کے دوران دستیاب بجلی کے استعمال کی شرح محض 33.88 فیصد رہی۔ اس کے باوجود صارفین کو استعمال نہ ہونے والی 6.12 فیصد بجلی کی قیمت بھی ادا کرنا پڑی۔ نیپرا کے مطابق مالی سال 2023-24 میں بجلی کی مجموعی فروخت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جو صارفین پر بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کی عکاس ہے۔