بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

والدین کے ہاتھوں قتل ہونے والی 10 سالہ سارہ شریف کی عدالتی تحقیقات آئندہ برس ہوں گی

سرے، برطانیہ:والدین کے ہاتھوں قتل ہونے والی 10 سالہ سارہ شریف کی موت کی عدالتی تحقیقات (انکوئسٹ) اگلے سال 2027 میں شروع ہوں گی۔
سارہ شریف کو اگست 2023 میں سرے کے علاقے ووکنگ میں گھر سے مردہ حالت میں پایا گیا تھا۔ دسمبر 2024 میں عدالت نے سارہ کے والد عرفان شریف کو کم از کم 40 سال اور سوتیلی والدہ بینش بتول کو 33 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ علاوہ ازیں، سارہ کے چچا فیصل ملک کو 16 سال قید کی سزا دی گئی تھی، انہیں جرم یہ قرار دیا گیا کہ انہوں نے سارہ کی موت کا سبب بنایا یا اسے روکنے میں ناکامی کی۔
جمعہ کو سرے کورونر کورٹ میں ہونے والے پری انکوئسٹ ریویو میں بتایا گیا کہ مکمل انکوئسٹ 5 اپریل 2027 سے شروع ہوگی، جبکہ اس سال اور آئندہ سال مزید پری انکوئسٹ بھی ہوں گی، پہلی انکوئسٹ یکم مئی کو ہوگی۔
عدالت نے کہا کہ آئندہ سماعتوں میں انکوئسٹ کے دائرہ کار کا تعین کیا جائے گا، جس میں یہ بھی دیکھا جائے گا کہ آیا نسل پرستی کے الزامات یا خدشات نے بچوں کے تحفظ سے متعلق ردعمل کو متاثر کیا یا نہیں۔
انکوئسٹ کی وکیل ایلیسن ہیوٹ نے بتایا کہ تحقیقات میں یہ بھی جائزہ لیا جائے گا کہ کون سی تفتیش ہونی چاہیے تھی، کون سی کی گئی، اور سارہ نے اپنے والد کے ساتھ گزارے چار سال کے دوران کن حالات کا سامنا کیا اور اس کی موت کی اصل وجوہات کیا تھیں۔
مقتولہ بچی کی سوتیلی والدہ بینش بتول نے جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت میں شرکت کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا وہ انکوئسٹ میں گواہ کے طور پر بیان دے سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ جانتی ہیں کہ اس سے ان کی سزا ختم نہیں ہوگی، لیکن کریمنل ٹرائل میں ان کی بات نہیں سنی گئی۔
سینئر کورونر رچرڈ ٹریورز نے کہا کہ اگر وہ تحریری بیان دینا چاہیں تو عدالت اسے روک نہیں گی اور بعد میں غور کیا جائے گا کہ پیش کیا گیا بیان انکوئسٹ کے لیے موزوں ہے یا نہیں۔