امریکا میں سائنس دانوں نے ایک ایسا جدید روبوٹ تیار کر لیا ہے جو انسانوں کے ہونٹوں کی حرکات کو دیکھ کر نہ صرف سمجھ سکتا ہے بلکہ ان کی عین مطابق نقل بھی کر سکتا ہے۔
کولمبیا یونیورسٹی کے انجینئرز کے مطابق انہوں نے ایک ایسا روبوٹ ڈیزائن کیا ہے جو بولنے یا گانے کے دوران ہونٹوں کی حرکت کو پہلی ہی کوشش میں سیکھ لیتا ہے۔ یہ روبوٹ گھنٹوں تک یوٹیوب پر موجود ویڈیوز دیکھتا رہا اور اپنے چہرے میں نصب 26 فیشل موٹرز کی مدد سے حرکات کی مشق کرتا رہا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نے آئینے میں اپنے عکس کو دیکھ کر خود کو بہتر بنانے کا عمل بھی جاری رکھا۔
یونیورسٹی کی کریئٹیو مشینز لیب سے وابستہ انجینئرز کا کہنا ہے کہ روبوٹ جتنا زیادہ انسانوں کے ساتھ تعامل کرے گا، اتنی ہی اس کی نقل کرنے کی صلاحیت نکھرتی جائے گی۔
ماہرین کے مطابق اس سے پہلے روبوٹس کے لیے انسانوں کی طرح ہونٹوں کی قدرتی حرکت کی نقل کرنا ایک بڑا چیلنج تھا، تاہم یہ پیش رفت روبوٹکس کی دنیا میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے اور مستقبل میں انسان اور روبوٹ کے درمیان رابطے کو کہیں زیادہ حقیقی بنا سکتی ہے۔
امریکا میں انسانی ہونٹوں کی نقل کرنے والا جدید روبوٹ تیار








