بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

عوام پر بجلی کی لاگت سے زیادہ حکومتی ٹیکسز کا بوجھ ہے، نیپرا

اسلام آباد(نیوزڈیسک) پیٹرولیم مصنوعات کی طرح بجلی کے بل میں بھی عوام پر بجلی کی لاگت سے زیادہ حکومتی ٹیکسز کا بوجھ ہے۔ صارفین صرف 6 قسم کے ٹیکسز کی مد میں 27 روپے فی یونٹ تک ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ فیول چارجز اس کے علاوہ ہیں۔

بجلی بل صرف بجلی کا نہیں بلکہ اس میں ٹیکسز کا انبار بھی شامل ہے، جی ایس ٹی، انکم ٹیکس، ایڈوانس ٹیکس، اضافی سیلز ٹیکس اور کمرشل صارف کے لیے ایکسٹرا سیلز ٹیکس سمیت سالانہ 900 ارب روپے کے ٹیکسز بھی اسی بل کا حصہ ہیں۔

سما کو دستیاب دستاویزکے مطابق صارفین بجلی پر تقریباً 8 روپے ٹیکس، 3 روپے 23 پیسے فی یونٹ گردشی قرض سرچارج،15 روپے 69 پیسے کیپسٹی پیمنٹس کی مد میں ادا کرتے ہیں۔

دستاویز کے مطابق صارفین سے 708 ارب روپے صرف جی ایس ٹی کی مد میں جمع ہوتے ہیں۔ نیپرا کے مطابق رواں سال صارفین 233 ارب روپے گردشی قرض سرچارج ادا کرچکے جو آئندہ بھی جاری رہے گا۔

صارفین کو کیپسٹی پیمنٹس کی مد میں 1946ارب روپے ادا کرنا ہوں گے۔ ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ اور فیول چارجز پر مزید ٹیکس اس کے علاوہ ہے۔