امریکا کے جنگی طیارے گرین لینڈ پہنچنا شروع ہوگئے۔
امریکی اور کینیڈین دفاعی ادارے نارتھ امریکن ایرو اسپیس ڈیفینس کمانڈ (نوراڈ) نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ امریکی جنگی طیارے جلد گرین لینڈ میں قائم امریکی فوجی اڈے پر پہنچیں گے۔
امریکی اور کینیڈین دفاعی ادارے نوارڈ کے مطابق گرین لینڈ کی حکومت کو بھی منصوبہ بندی سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
نوارڈ کے مطابق امریکی طیاروں کی نئی کھیپ پہنچانے میں ڈنمارک حکومت سے ہم آہنگی ہے۔ امریکی فورسز کو ضروری سفارتی اجازت نامے حاصل ہیں۔
واضح رہے کہ گرین لینڈ دراصل ڈنمارک کا ایک خود مختار علاقہ ہے۔1951 میں امریکا اور ڈنمارک نے گرین لینڈ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
معاہدے کے تحت امریکا نے گرین لینڈ کو ممکنہ جارحیت سے بچانے کا عزم کیا تھا، جبکہ امریکا اور کینیڈا نے 1958 میں سرد جنگ کے آغاز پر دفاعی معاہدے نوراڈ پر دستخط کیے تھے۔
North American Aerospace Defense Command (NORAD) aircraft will soon arrive at Pituffik Space Base, Greenland. Along with aircraft operating from bases in the continental United States and Canada, they will support various long-planned NORAD activities, building on the enduring…
— North American Aerospace Defense Command (@NORADCommand) January 19, 2026
نوراڈ کا بنیادی مقصد بیلسٹک میزائلوں کی لانچنگ کی بروقت اطلاع دینا ہے۔
ٹرمپ کے لیے گرین لینڈ کا کنٹرول حاصل کرنا اتنا ضروری کیوں ہے؟
قبل ازیں امریکی صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکا کے گرین لینڈ پر کنٹرول کے بغیر دنیا محفوظ نہیں ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جب تک امریکا کے پاس گرین لینڈ کا مکمل اور حتمی کنٹرول نہیں ہوگا، دنیا محفوظ نہیں ہو سکتی، نوبیل امن انعام کے لیے نظر انداز کیے جانے کے بعد وہ اب خود کو صرف امن کے بارے میں سوچنے کا پابند نہیں سمجھتے۔
ٹرمپ نے ناروے کے وزیرِاعظم یوناس گاہر اسٹورے کو بھیجے گئے پیغام میں کہا کہ دنیا اس وقت تک غیر محفوظ ہے جب تک امریکا گرین لینڈ پر مکمل کنٹرول حاصل نہ کر لے۔ مذکورہ پیغام کی تصدیق اسٹورے کے دفتر نے کی تھی۔









