بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

اسلام علم و ٹیکنالوجی کے مثبت استعمال کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، سردار یوسف

قاہرہ:(ویب ڈیسک) وفاقی وزیر برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف نے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں سپریم کونسل برائے اسلامی امور کی 36 ویں بین الاقوامی کانفرنس میں کلیدی خطاب کیا۔

سردار محمد یوسف نے کہا کہ “اسلام میں پیشے: ان کے اثرات اور مصنوعی ذہانت کے دور میں ان کا مستقبل” جیسے موضوعات پر کانفرنس کا انعقاد ایمان اور عصری بصیرت کے حسین امتزاج کی عکاسی کرتا ہے۔

وزیر نے اسلام میں محنت اور پیشوں کی غیر معمولی عزت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کام، جب دیانت اور معاشرے کی خدمت کے جذبے سے کیا جائے تو عبادت بن جاتا ہے۔

انہوں نے تاریخی طور پر اسلامی تہذیب کے علم، حکمرانی، طب، زراعت، صنعت اور تجارت میں اخلاقی پیشہ ورانہ اقدار کے کردار کو سراہا، جن کی بنیاد عدل، امانت اور انسانیت کی خدمت تھی۔

سردار یوسف نے کہا کہ اسلام جائز پیشوں کو سماجی ہم آہنگی اور اجتماعی فلاح کے اہم وسائل سمجھتا ہے اور ہر پیشہ اگر اخلاقی اصولوں پر قائم ہو تو معاشرے میں توازن پیدا کرتا ہے۔

انہوں نے معاشرتی فرضِ کفایہ اور پیشوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ معاشرہ اجتماعی طور پر ضروری پیشوں کی فراہمی کا ذمہ دار ہے۔

وزیر نے مصنوعی ذہانت کے مواقع اور چیلنجز پر بات کرتے ہوئے کہا کہ AI صحت، تعلیم اور حکمرانی میں سہولت فراہم کرتی ہے مگر روزگار کے خاتمے، ڈیٹا کے غلط استعمال اور انسانی اقدار کے متاثر ہونے کے خدشات بھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلام جدت کی مخالفت نہیں کرتا بلکہ اخلاقی حدود میں علم اور ٹیکنالوجی کے مثبت استعمال کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

سردار یوسف نے مصنوعی ذہانت کے دور میں پیشوں کے لیے اسلام کا جامع اخلاقی فریم ورک پیش کرتے ہوئے کہا کہ انسانی وقار، عدل، جواب دہی اور نیت کی اہمیت برقرار رکھی جائے۔

آخر میں وزیر نے کہا کہ علماء، سائنسدان اور ماہرینِ ٹیکنالوجی کے درمیان مسلسل مکالمہ ضروری ہے تاکہ مستقبل کے پیشے اسلام کی تعلیمات کے مطابق رحمت، انصاف اور انسانی فلاح کے ذرائع بنے رہیں۔