ڈیووس(انٹرنیشنل ڈیسک) امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں وہ کامیابیاں حاصل کی گئیں جنہیں کبھی ممکن ہی نہیں سمجھا جاتا تھا، اور ان کی قیادت میں اب تک آٹھ بڑی جنگیں ختم ہو چکی ہیں۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ ایک اور بڑا امن معاہدہ بہت جلد سامنے آ سکتا ہے، تاہم ایک تنازع ایسا ہے جو توقع کے برعکس سب سے زیادہ مشکل ثابت ہوا۔
اپنے خطاب میں صدر نے یوکرین اور روس کی جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ صرف گزشتہ ایک ماہ میں 29 ہزار افراد ہلاک ہوئے، جن میں اکثریت فوجیوں کی تھی۔ اس سے ایک ماہ قبل 27 ہزار اور اس سے پہلے 26 ہزار ہلاکتیں ہوئیں۔ صدر کے مطابق یہ صورتحال نہایت خوفناک ہے، تاہم اس جنگ کے خاتمے کے لیے مسلسل ملاقاتیں ہو رہی ہیں اور پیش رفت بھی ہو رہی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاکہ پاک بھارت جنگ سمیت 8 جنگیں ختم کراچکاہوں۔
صدر نے اپنی ٹیم کے اہم ارکان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے سیکریٹری اسکاٹ بیسٹ، ہاورڈ لٹنک، کرس رائٹ اور امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے پولینڈ میں امریکی سفیر کلیسٹا گنگرچ کی خدمات کو بھی زبردست قرار دیا اور کہا کہ وہ امن کے لیے غیرمعمولی کردار ادا کر رہی ہیں۔
خطاب کے دوران صدر نے بورڈ آف پیس کے پہلے باضابطہ اراکین کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ان کی موجودگی امریکہ کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔ انہوں نے مختلف ملکوں کے رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا، جن میں پولینڈ کے صدر بھی شامل تھے جنہیں انہوں نے ایک مقبول اور شاندار رہنما قرار دیا۔ اس کے علاوہ برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر کی شرکت کو بھی سراہا۔
صدر نے بتایا کہ ان کی دوسری مدتِ صدارت کو ایک سال مکمل ہو چکا ہے اور ان کے بقول ایک سال میں امریکہ نے ملکی اور عالمی سطح پر ایسی تبدیلیاں کیں جو کسی بھی سابقہ انتظامیہ کے بس کی بات نہیں تھیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں عوام کی جانب سے زبردست مینڈیٹ ملا، پاپولر ووٹ میں واضح برتری حاصل کی گئی اور تمام ساتوں سوئنگ اسٹیٹس جیتے گئے۔
معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ امریکی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے، مہنگائی تقریباً ختم ہو چکی ہے اور گزشتہ تین ماہ میں افراطِ زر کی شرح صرف 1.2 فیصد رہی۔ ان کے مطابق حکومت کو تاریخ کی بدترین مہنگائی ورثے میں ملی تھی، مگر اب معاشی ترقی کی شرح 5.4 فیصد تک پہنچ چکی ہے اور درست فیصلوں سے یہ شرح دگنی یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔
صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکہ میں 18 کھرب ڈالر سے زائد کی نئی سرمایہ کاری کے معاہدے طے پا چکے ہیں، جو عالمی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے۔ ان کے مطابق صرف ایک سال میں تجارتی خسارہ 77 فیصد کم ہوا اور کئی تاریخی تجارتی معاہدے کیے گئے۔
صدر کا کہنا تھا کہ اقتدار سنبھالتے وقت دنیا بھر میں کئی پرانی جنگیں جاری تھیں جن کے بارے میں عام لوگوں کو علم بھی نہیں تھا، بعض تنازعات 30 سے 37 سال پرانے تھے، اور ان کا خاتمہ ان کی حکومت کی بڑی کامیابی ہے۔









