خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفرِدی نے صوبائی کابینہ سے خطاب میں کہا ہے کہ صوبے میں فوجی آپریشنز صوبائی حکومت اور اسمبلی کی اجازت کے بغیر مسلط کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے وفاقی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ متاثرین کے لیے اعلان کردہ مالی تعاون فراہم نہیں کر رہی، جس سے صوبے پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان اور بشریٰ بی بی کو 90 دن سے زائد تنہائی میں رکھا گیا ہے اور انہیں فیملی اور دوستوں سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے اس کو ظلم قرار دیتے ہوئے کہا کہ سردی کے موسم میں بنیادی سہولیات فراہم نہ کرنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
سہیل آفرِدی نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کے ساتھ وفاقی رویہ امتیازی اور سوتیلی ماں جیسا ہے۔ وفاق کی جانب سے دہشت گرد قیدیوں کی تفصیلات نہ فراہم کرنے کی وجہ سے صوبائی حکومت نے ایڈ ان آف سول پاور واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم معلومات کی کمی کی وجہ سے عمل میں تاخیر ہو رہی ہے، جس سے سیکیورٹی خدشات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے وفاقی اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو کالعدم قرار دینا اور شیڈول فور میں شامل کارکنان کی فہرست پر عملدرآمد غیر مناسب ہے۔ انہوں نے صوبائی ملازمین سے انتخابی دھاندلی کے حوالے سے پوچھ گچھ کے لیے خصوصی کمیٹی قائم کرنے کا اعلان بھی کیا۔
انہوں نے صوبے میں جاری فوجی آپریشنز کی مالی لاگت پر بھی روشنی ڈالی، بتایا کہ صوبائی حکومت نے اب تک 7.5 ارب روپے اپنے وسائل سے خرچ کیے ہیں اور مزید 100 ارب روپے کے نقصانات کا خدشہ ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ آپریشنز کے دوران شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہے۔
سہیل آفرِدی نے کہا: صوبائی حکومت کو فوجی کارروائیوں میں شمولیت یا اجازت صوبائی اسمبلی کے بغیر نہیں دی جا سکتی۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے 22 بڑے آپریشنز اور 14 ہزار انٹیلیجنس کارروائیاں کی جا چکی ہیں، لیکن مسئلہ برقرار ہے۔ ریڈیو پاکستان واقعے کی تحقیقات کے لیے صوبائی اسمبلی میں اسپیشل کمیٹی قائم کر دی گئی ہے، اور اس کا ایک اجلاس بھی ہو چکا ہے۔
وزیراعلیٰ نے زور دیا کہ خیبرپختونخوا کے تمام اسٹیک ہولڈرز، قبائلی مشران اور سیاسی و مذہبی قیادت کو بٹھا کر مشترکہ حکمت عملی بنائی جائے تاکہ صوبے میں پائیدار امن قائم کیا جا سکے اور شہری حقوق محفوظ رہیں۔
خیبرپختونخوا میں فوجی آپریشنز اور وفاقی امور پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا بیان








