بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

جنوبی کوریا؛ مارشل لا کیس میں صدر کے بعد سابق وزیرِاعظم کو بھی 23 سال قید کی سزا

جنوبی کوریا میں ایک عدالت نے دسمبر 2024 میں نافذ کیے گئے مارشل لا کو بغاوت قرار دیتے ہوئے اُس وقت کے وزیرِاعظم ہان ڈک سو کو 23 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق مارشل لا کے نفاذ پر اُس وقت کے صدر یون سک یول کو بھی پہلے ہی سزا سنائی جا چکی ہے۔ سابق صدر ہی نے ہان ڈک سو کو وزیرِاعظم کے عہدے پر نامزد کیا تھا، اور جب مارشل لا کا اعلان کیا گیا تو ہان ڈک سو نے اسے بلا کسی ہچکچاہٹ کے فوری طور پر نافذ کیا تھا۔
مارشل لا بحران کے دوران ہان ڈک سو کو قائم مقام قیادت کرنے والے تین اہم عہدیداروں میں سب سے زیادہ اثر و رسوخ رکھنے والا فرد قرار دیا گیا۔
ڈسٹرکٹ کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ سابق صدر کی جانب سے پارلیمنٹ اور انتخابی دفاتر میں فوج اور پولیس کی تعیناتی ایک “خود ساختہ بغاوت” کے مترادف تھی، جس کا مقصد آئینی نظام کو کمزور کرنا اور جمہوری اداروں کو نقصان پہنچانا تھا۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ملزم کے اقدامات ملک کو دوبارہ اُس تاریک دور کی طرف لے جا سکتے تھے جہاں عوامی حقوق پامال اور جمہوری نظام دب چکا تھا۔
یہ تاریخی فیصلہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ جنوبی کوریا میں یہ مارشل لا نافذ کرنے والے سابق صدر کی انتظامیہ کے کسی اعلیٰ عہدیدار کے خلاف بغاوت کے الزام میں دی جانے والی پہلی سزا ہے۔
استغاثہ نے ہان ڈک سو کے لیے 15 سال قید کی استدعا کی تھی، لیکن عدالت نے اسے بڑھا کر 23 سال کر دیا۔ 76 سالہ ہان اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر سکتے ہیں اور عدالت میں موقف اختیار کر چکے ہیں کہ وہ مارشل لا کے منصوبے کے مخالف تھے۔
واضح رہے کہ سابق صدر یون سک یول پہلے ہی کئی ماہ سے جیل میں ہیں اور ان کے خلاف بغاوت سمیت آٹھ فوجداری مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔ عدالت ان کے خلاف بغاوت کا فیصلہ 19 فروری کو سنائے گی، اور استغاثہ نے سابق صدر کے لیے سزائے موت کی بھی استدعا کی ہے۔
پہلے ہی گرفتاری میں مزاحمت، مارشل لا اعلامیے میں جعلسازی اور کابینہ ارکان کو مشاورت سے روکنے کے جرم میں سابق صدر کو پانچ سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔