سرینگر(نیوز ڈیسک) مقبوضہ کشمیر میں مودی حکومت نے سچ بولنے والے صحافیوں کے خلاف سخت اقدامات کرتے ہوئے خوف کی فضا مسلط کر دی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق صحافیوں کو تھانوں میں طلب کرنا، حلفیہ بیانات پر دستخط کے لیے دباؤ ڈالنا اور حساس موضوعات پر رپورٹنگ روکنا ایک منظم حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔
برطانوی جریدے کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مساجد کے منتظمین کی معلومات جمع کرنے کی مہم کو منظم دباؤ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے خبر شائع کرنے پر سرینگر میں متعدد صحافیوں کو سائبر پولیس نے طلب کیا، جس پر مقامی اور عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا۔
رپورٹ کے مطابق انڈین ایکسپریس کے صحافی بشارت مسعود کو حلفیہ بیان پر دستخط کرنے کے لیے غیر معمولی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ہندوستان ٹائمز کے نامہ نگار عاشق حسین کو بھی اسی خبر پر پولیس طلبی کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی ارکانِ اسمبلی نے اس عمل کو جمہوریت پر کھلا حملہ قرار دیا ہے۔
آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد مقبوضہ کشمیر میں صحافیوں پر دباؤ مسلسل بڑھتا گیا ہے۔ انسانی حقوق سے متعلق رپورٹنگ پر قید و بند اور ادارتی پابندیاں معمول بن چکی ہیں، جس سے صحافت عملاً یرغمال دکھائی دیتی ہے۔ ناقدین کے مطابق مودی کے اقتدار میں جمہوریت محض ایک دکھاوا بن کر رہ گئی ہے۔
برطانوی جریدے نے مزید بتایا کہ فہد شاہ کے اخبار کشمیر والا کو بند کر کے انہیں سینٹرل جیل منتقل کیا گیا، جہاں وہ 21 ماہ بعد ضمانت پر رہا ہوئے۔ گزشتہ سال جموں میں اخبار کی اشاعت معطل ہونے کے باوجود کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپہ بھی مارا گیا۔
عالمی صحافتی تنظیموں کی بارہا تشویش کے باوجود بھارت میں صحافیوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ مودی راج میں حقائق شائع کرنے پر پولیس کے ذریعے دباؤ ڈالنا فسطائیت کی واضح مثال ہے، جس سے مقبوضہ کشمیر میں آزادیِ اظہار شدید خطرے میں ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں صحافت پر شب خون، مودی کی نام نہاد جمہوریت کا اصل چہرہ آشکار








