اداکارہ سیما سجدیہہ نے کئی برسوں بعد اپنے سابق شوہر سہیل خان سے علیحدگی کی اصل وجوہات پر پہلی بار کھل کر بات کی اور بتایا کہ طلاق کے بعد ان کی زندگی کس طرح بدل گئی۔
سیما اور سہیل خان نے 1998 میں شادی کی تھی اور 2022 میں اپنی راہیں جدا کر لیں۔ ان کے دو بیٹے ہیں، نیروان اور یوہان، جن کی پرورش دونوں والدین مل کر کر رہے ہیں۔
ایک انٹرویو میں سیما نے ماضی کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں شادی کے وقت بہت کم عمر تھے اور زندگی کے بدلتے مراحل اور ذمہ داریوں کو مکمل طور پر سمجھ نہیں پائے تھے۔ انہوں نے بتایا:
جب ہماری شادی ہوئی تو میں صرف 22 سال کی تھی۔ وقت کے ساتھ ہم مختلف سمتوں میں بڑھتے گئے اور ہمارے خیالات بدل گئے۔ آخرکار ہمیں احساس ہوا کہ ہم میاں بیوی کے بجائے بہتر دوست ہیں۔”
سیما نے وضاحت کی کہ علیحدگی کا فیصلہ جلد بازی میں نہیں بلکہ سوچ بچار کے بعد کیا گیا۔ انہوں نے کہا:ناخوشگوار ساتھ سے زیادہ اہم گھر کا سکون ہے۔ روزانہ کی لڑائی سے بہتر تھا کہ ہم الگ ہو جائیں۔ ہم گھر کا ماحول خراب نہیں کرنا چاہتے تھے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ طلاق کسی بھی عورت کا خواب نہیں ہوتی اور نہ ہی یہ خود پر مسلط کی جاتی ہے۔ سیما نے بتایا کہ اس دوران وہ ڈپریشن میں چلی گئیں اور یقیناً بچے بھی اس سے متاثر ہوئے ہوں گے۔ علیحدگی تک پہنچنے میں کئی سال لگے، اور خاص طور پر بچوں کے لیے صحیح وقت کا انتظار کیا گیا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ آخرکار فیصلہ کس نے کیا، تو سیما نے کہا کہ اس میں کسی پر الزام تراشی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
طلاق کے بعد کی زندگی کے بارے میں بات کرتے ہوئے سیما سجدیہہ نے کہا کہ عملی خودمختاری ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج تھی۔ انہیں مالی نظم و نسق، انشورنس اور روزمرہ کے معاملات سب کچھ نئے سرے سے سیکھنا پڑا۔
واضح رہے کہ سیما سجدیہہ اس وقت وکرم آہوجا کے ساتھ تعلق میں ہیں، جن سے ان کی منگنی سہیل خان سے شادی سے پہلے ہوئی تھی۔
سہیل خان سے علیحدگی پر سیما سجدیہہ کا پہلی بار کھلا انکشاف








