اسپین نے دیگر یورپی ممالک کی طرح امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قائم کردہ غزہ امن بورڈ میں شمولیت سے صاف انکار کر دیا ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے برسلز میں یورپی یونین کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ امریکا کی جانب سے دی گئی دعوت کو قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا، تاہم اسپین اس بورڈ کا حصہ نہیں بن سکتا۔
پیڈرو سانچیز کا کہنا تھا کہ یہ امن بورڈ غزہ کے مستقبل سے متعلق فیصلوں کو اقوام متحدہ کے دائرہ کار سے باہر لے جا رہا ہے، جو ایک سنجیدہ غلط فہمی اور قابلِ تشویش امر ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی اعتراض کیا کہ اس بورڈ میں فلسطینی اتھارٹی کو شامل نہیں کیا گیا، حالانکہ غزہ کے مستقبل پر سب سے زیادہ حق خود فلسطینی عوام کا ہے۔
اسپین کے وزیراعظم نے واضح کیا کہ غزہ اور مغربی کنارے کے مستقبل کا فیصلہ کسی بیرونی فورم یا بورڈ کو نہیں بلکہ فلسطینی عوام کو خود کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب فیصلے متاثرہ عوام کی مرضی اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہوں۔
یاد رہے کہ اسپین سے قبل فرانس، ناروے، برطانیہ اور کینیڈا بھی ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شمولیت سے انکار کر چکے ہیں یا اس معاملے پر محتاط مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یورپی یونین نے بھی اس بورڈ کے ڈھانچے، اختیارات کے ارتکاز اور اقوام متحدہ کے اصولوں سے ممکنہ ٹکراؤ پر تشویش ظاہر کی ہے۔
واضح رہے کہ غزہ جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے تحت صدر ٹرمپ نے غزہ کے امور چلانے کے لیے ’بورڈ آف پیس‘ قائم کرنے کا اعلان کیا تھا، جس پر عالمی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
غزہ پر حقِ فلسطینیوں کا ہے، اسپین کا ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہونے سے انکار







