25 جنوری 1990 کشمیر کی تاریخ کا ایک المناک اور سیاہ ترین دن قرار دیا جاتا ہے، جب ضلع کپواڑہ کے علاقے ہندواڑہ میں بھارتی قابض فورسز نے ایک پُرامن مظاہرے پر فائرنگ کر کے متعدد نہتے کشمیریوں کو شہید اور زخمی کر دیا۔ یہ اجتماع پُرامن اور غیر مسلح افراد پر مشتمل تھا جو مختلف علاقوں میں ہونے والی ہلاکتوں کے خلاف آواز بلند کرنے اور انصاف کا مطالبہ کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔
عینی شاہدین کے مطابق اس وقت پوری وادی غم اور صدمے کی کیفیت میں تھی، تاہم حالات کو سنبھالنے کے بجائے بھارتی حکام نے جبر میں اضافہ کیا۔ اس دور میں کرفیو، جبری گرفتاریاں اور فوجی محاصرے معمول بن چکے تھے۔ نہتے مظاہرین پر اچانک اندھا دھند فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں کم از کم 21 افراد شہید اور 75 سے زائد زخمی ہوئے۔
سانحہ ہندواڑہ اس سے قبل پیش آنے والے گاؤکدل قتلِ عام کے زخم ابھی تازہ ہی تھے کہ پیش آیا، جس نے وادی میں خوف اور اضطراب کی فضا کو مزید گہرا کر دیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق مظاہرین کا مقصد سوگ منانا اور متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کرنا تھا، تاہم انہیں احتجاج اور حتیٰ کہ غم منانے کی بھی اجازت نہ دی گئی۔
اس واقعے کے بعد حسبِ روایت نہ کوئی آزادانہ تحقیقات ہوئیں اور نہ ہی ذمہ داران کو سزا دی جا سکی۔ مبصرین کے مطابق سانحہ ہندواڑہ تحریکِ آزادی کشمیر کی طویل جدوجہد کا ایک خونی باب ہے، جس نے کشمیری عوام کے اجتماعی شعور پر گہرا اثر چھوڑا۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ قتلِ عام کے خلاف پُرامن احتجاج کو گولیوں سے دبایا گیا، مگر ہندواڑہ خاموش نہ ہوا اور مزاحمت مزید مضبوط ہوئی۔ ایک اور قصبہ اور ایک اور تاریخ کشمیر کی یادداشت میں ایک نئے زخم کے طور پر درج ہو گئی۔
25 جنوری 1990 آج بھی اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں حق کی پُرامن آواز کو طاقت کے ذریعے دبایا گیا۔ کشمیری عوام کے مطابق ان کی جدوجہد اور مطالبات آج بھی اسی عزم کے ساتھ زندہ ہیں کہ ان کے ساتھ ہونے والے مظالم کا حساب لیا جائے اور انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔








