بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ٹی 20 ورلڈ کپ بائیکاٹ پر سابق پی سی بی سربراہان کے متضاد مؤقف سامنے آئے

آئی سی سی کے فیصلے کے بعد بنگلہ دیش کو ٹی 20 ورلڈ کپ سے خارج کرکے اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کرنے کے معاملے نے پاکستان میں بھی بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا پاکستان اس میگا ایونٹ میں حصہ لے یا بائیکاٹ کرے۔ اس حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے سابق سربراہان کے مؤقف میں واضح فرق دیکھا جا رہا ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر) توقیر ضیا کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ورلڈ کپ کا بائیکاٹ نہیں کرنا چاہیے۔ بی بی سی سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کے اخراج کا فیصلہ آئی سی سی کی کونسل نے متفقہ طور پر کیا، اور کوئی دوسرا بورڈ اس پر اعتراض نہیں کر رہا، لہٰذا اب معاملے کو طول دینے کے بجائے پاکستان کو اپنا موقف واضح کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق پاکستان انٹرنیشنل کرکٹ کا اہم رکن ہے اور پاک بھارت میچ کے نشریاتی حقوق بھی اس میں شامل ہیں، اس لیے بائیکاٹ کرنا آسان نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب کرکٹ بورڈ نے فیصلہ حکومت پر چھوڑ دیا ہے اور حکومت دیکھے گی کہ بھارت کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں کیا حکمت عملی اپنائی جاتی ہے۔
دوسری جانب سابق چیئرمین خالد محمود اس رائے سے متفق نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پی سی بی کو اصولی موقف پر قائم رہنا چاہیے اور دوبارہ آئی سی سی کا ہنگامی اجلاس طلب کر کے دیگر اراکین کو یہ باور کرانا چاہیے کہ بھارت اکثر کھیل میں سیاست شامل کرتا ہے۔ خالد محمود نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے رویے ماضی میں بھی متنازع رہے ہیں — کبھی کرکٹرز ہاتھ نہیں ملاتے، کبھی ٹرافی وصول کرنے سے انکار کرتے ہیں، اور کبھی کسی ملک میں کھیلنے سے انکار کرتے ہیں۔ ان کے بقول، اگر اصولوں کی بنیاد پر کروڑوں ڈالر بھی قربان کرنے پڑیں، تو پاکستان کو پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے کیونکہ دنیا پیسہ نہیں، اصول دیکھتی ہے۔
واضح رہے کہ پی سی بی کے موجودہ چیئرمین محسن نقوی نے اعلان کیا ہے کہ ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان کی شرکت یا بائیکاٹ کے بارے میں حتمی فیصلہ جمعہ یا پیر تک کیا جائے گا۔