بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں نِپاہ وائرس کے دو کیسز کی تصدیق ہوئی ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ بروقت اقدامات کے نتیجے میں وائرس کے پھیلاؤ کو روک لیا گیا ہے۔
بھارتی وزارتِ صحت کے مطابق متاثرہ افراد کی شناخت کے بعد نگرانی کا نظام مزید مضبوط کیا گیا، لیبارٹری ٹیسٹنگ اور فیلڈ تحقیقات کی گئیں، جس کے سبب کیسز کو بروقت قابو میں رکھا جا سکا۔ وزارت نے متاثرہ مریضوں کی مزید ذاتی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور تمام ضروری اقدامات نافذ کر دیے گئے ہیں۔ دونوں کیسز سے جڑے 196 افراد کی نشاندہی کی گئی جن کے ٹیسٹ منفی آئے۔
نِپاہ وائرس بنیادی طور پر جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے، اس کی کوئی ویکسین موجود نہیں، اور عالمی ادارۂ صحت کے مطابق اس کی اموات کی شرح 40 سے 75 فیصد تک ہو سکتی ہے۔
یہ وائرس پہلی بار 1998 میں ملائیشیا میں سامنے آیا، جہاں خنزیر پالنے والے کسان متاثر ہوئے تھے۔ بھارت میں نِپاہ کی پہلی وبا 2001 میں مغربی بنگال میں رپورٹ ہوئی، جبکہ 2018 میں کیرالہ میں کم از کم 17 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ 2023 میں بھی کیرالہ میں دو افراد نِپاہ وائرس کے باعث ہلاک ہوئے۔
ماہرین کے مطابق فروٹ بیٹس (چمگادڑیں) وائرس کی قدرتی میزبانی کرتی ہیں، جو پھیلاؤ کی بڑی وجہ بنتی ہیں۔ نِپاہ وائرس کی علامات میں تیز بخار، قے، سانس کی بیماری شامل ہیں، جبکہ شدید کیسز میں دورے اور دماغی سوزش کے باعث مریض کومے میں بھی جا سکتا ہے۔
بھارت میں نِپاہ وائرس کے دو کیسز، حکومت کا دعویٰ: بروقت کنٹرول ممکن ہو گیا







