بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ٹرمپ کی عراق کو وارننگ: نوری المالکی کی واپسی پر امریکی حمایت ختم کرنے کی دھمکی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عراق کو خبردار کیا ہے کہ اگر سابق وزیرِاعظم نوری المالکی دوبارہ اقتدار میں آتے ہیں تو امریکہ عراق کی مزید حمایت بند کر دے گا۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب شیعہ سیاسی اتحاد کوآرڈینیشن فریم ورک نے المالکی کی نامزدگی کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ المالکی کے گزشتہ دور میں عراق کو شدید بدامنی اور غربت کا سامنا کرنا پڑا، اور دوبارہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے بقول، اگر المالکی دوبارہ منتخب ہوئے تو امریکہ کی مدد کے بغیر عراق کے لیے ترقی، خوشحالی اور آزادی ممکن نہیں ہوگی۔
امریکی حکام نوری المالکی کو ایران کے زیادہ قریب سمجھتے ہیں، جس پر واشنگٹن میں طویل عرصے سے تشویش پائی جاتی ہے۔ یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب امریکا اور ایران کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہیں اور عراق میں ایرانی اثر و رسوخ پر بھی خدشات بڑھ رہے ہیں۔
نوری المالکی 2006 سے 2014 تک عراق کے وزیرِاعظم رہے اور 2003 میں صدام حسین کے خاتمے کے بعد وہ واحد عراقی وزیرِاعظم ہیں جنہوں نے دو مدتیں مکمل کیں۔ تاہم ان پر اقتدار کو مرکوز رکھنے، سنی اور کرد آبادی کو نظرانداز کرنے اور ایران کے قریب ہونے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ 2014 میں داعش کے پھیلاؤ کے بعد امریکہ نے ان کی قیادت پر اعتماد کھو دیا تھا۔
ادھر امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بھی عراق میں ایران نواز حکومت کے خدشے پر تشویش ظاہر کی۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق، ایران کے زیر اثر حکومت عراق کے قومی مفادات کا تحفظ نہیں کر سکتی۔
ماہرین کے مطابق، ٹرمپ کی کھلی مخالفت نوری المالکی کے لیے ایک بڑی سیاسی رکاوٹ ثابت ہو سکتی ہے، تاہم عراقی سیاست میں غیر متوقع موڑ آنا کوئی نیا معاملہ نہیں۔