بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

سپریم کورٹ کا فیصلہ: برطرف ملازم کی بحالی اور واجبات کی ادائیگی یقینی بنانے کا حکم

سپریم کورٹ نے برطرف ملازم کی بحالی اور واجبات کی ادائیگی کے حوالے سے اہم فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ غلط برطرفی کا شکار ملازم پچھلے تمام واجبات کا حقدار ہے۔ عدالت نے اس سلسلے میں کی جانے والی سرکاری اپیلیں مسترد کر دیں۔
عدالت عظمیٰ نے خیبر پختونخوا کے پولیس اہلکاروں کو برطرفی کے پچھلے واجبات دینے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ایک ماہ کے اندر تمام بقایا جات ادا کیے جائیں۔ ساتھ ہی سپریم کورٹ نے پولیس اہلکاروں کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے خیبر پختونخوا سروس ٹربیونل کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔
فیصلے میں عدالتی حکمت کے اظہار کے لیے نظم اور معروف اقوال کا حوالہ بھی دیا گیا۔ فیصلے میں کہا گیا:
انصاف کا سورج طلوع ہوگا تو اندھیرے چھٹ جائیں گے۔”
> شیکسپیئر کے حوالے سے کہا گیا کہ “رزق چھیننا زندگی چھیننے کے مترادف ہے۔”
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ آئین کا آرٹیکل 9 زندگی کی ضمانت دیتا ہے، جس میں روزگار کا تحفظ بھی شامل ہے۔ اس کے مطابق، غلط برطرفی کا شکار ملازم مکمل واجبات حاصل کرنے کا حق رکھتا ہے اور حکام کو اپنے فیصلوں کے ٹھوس اور معقول جواز فراہم کرنا ضروری ہے۔
عدالت نے مزید کہا کہ ملازم کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے در در نہیں بھٹکنا پڑے گا، جبکہ ادارے کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی ملازم کے خلاف جھوٹا ثبوت پیش کرنے سے گریز کرے۔ نظام کی خرابی یا مقدمے بازی میں تاخیر کی سزا عام ملازم کو نہیں دی جا سکتی۔
واضح رہے کہ خیبر پختونخوا پولیس کے برطرف ملازمین کی بحالی کے بعد پچھلے واجبات روک دیے گئے تھے اور سروس ٹربیونل نے ان کی ادائیگی سے انکار کیا تھا۔ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ کے فیصلے کی تحریر جسٹس شاہد وحید نے کی۔
یہ فیصلہ ملازمین کے حقوق کے تحفظ اور عدالتی شفافیت کے لیے سنگ میل ثابت ہو گا۔