بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

جلاوطن شیخ حسینہ نے بنگلادیش کے عام انتخابات کو مسترد کر دیا

بنگلا دیش کی معزول وزیر اعظم اور جلاوطن شیخ حسینہ نے بھارت میں مقیم رہتے ہوئے آئندہ عام انتخابات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کی جماعت عوامی لیگ کو انتخابی عمل سے خارج کرنا ملک میں سیاسی عدم استحکام کو جنم دے سکتا ہے۔
شیخ حسینہ نے ای میل کے ذریعے ایک بیان میں بتایا کہ اگر انتخابات شفاف، آزاد اور سب کی شمولیت کے بغیر منعقد ہوئے تو بنگلا دیش طویل سیاسی بحران کا شکار رہے گا۔ ان کا الزام ہے کہ عبوری حکومت نے جان بوجھ کر ان کی جماعت کو انتخابات سے باہر رکھا، جس کی وجہ سے لاکھوں عوام کو اپنے حقِ رائے دہی سے محروم ہونا پڑا۔
شیخ حسینہ کا کہنا تھا کہ کسی بڑی سیاسی جماعت کو انتخابی عمل سے روکنا نہ صرف عوام میں غصہ پیدا کرتا ہے بلکہ اداروں کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتا ہے اور ملک میں مستقبل کے عدم استحکام کی بنیاد رکھتا ہے۔ ان کے مطابق ایک تقسیم شدہ قوم کو وہ حکومت متحد نہیں کر سکتی جو اخراج اور پابندیوں کی بنیاد پر قائم ہو۔
واضح رہے کہ بنگلا دیش میں 12 فروری کو عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں، جو ملک کی سیاسی تاریخ میں اہم ترین قرار دیے جا رہے ہیں۔ یہ انتخابات شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد پہلی بار منعقد ہو رہے ہیں۔ عبوری حکومت کی سربراہی نوبیل انعام یافتہ محمد یونس کر رہے ہیں، جنہوں نے شفاف انتخابات کا وعدہ کیا ہے۔
انتخابی کمیشن کے مطابق تقریباً 500 غیر ملکی مبصرین، جن میں یورپی یونین اور دولتِ مشترکہ کے نمائندے شامل ہیں، انتخابات کی نگرانی کریں گے۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے سیاسی حقوق، اقلیتوں کے تحفظ اور میڈیا کی آزادی سے متعلق خدشات ظاہر کیے ہیں۔
ادھر بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی کے رہنما طارق رحمان مضبوط امیدوار کے طور پر میدان میں ہیں، جبکہ ان کے مقابلے میں ایک مذہبی جماعت کی قیادت میں اتحاد بھی انتخابات میں حصہ لے رہا ہے۔
شیخ حسینہ، جنہیں 2024 کی طلبہ تحریک کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کے مقدمے میں سزائے موت سنائی گئی تھی، نے عدالت کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو سیاسی پابندیوں اور بائیکاٹ کے عمل سے باہر آنا ہوگا تاکہ عوام کے زخم بھر سکیں اور بنگلا دیش ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔