کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پاسکو کے اسٹاک میں موجود 5 لاکھ ٹن گندم کی نیلامی اور پنجاب کو 3 لاکھ ٹن فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس میں 3 لاکھ ٹن مہنگی درآمدی گندم بھی شامل ہے، جسے سبسڈی والے نرخوں پر بیچا جائے گا۔ اس فیصلے سے خزانے کو 20.5 سے 22 ارب روپے تک مالی نقصان کا خدشہ ہے۔
ای سی سی کا اجلاس وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ 2022 میں 2 لاکھ 94 ہزار 994 میٹرک ٹن گندم درآمد کی گئی تھی، جو اب پاسکو کے گوداموں میں موجود ہے، جبکہ پاسکو کے ادارے کو ختم کیا جا رہا ہے۔
ای سی سی نے 5 لاکھ ٹن گندم کو مسابقتی بولی کے ذریعے نیلام کرنے کی منظوری دی تاکہ فاضل ذخیرہ ختم ہو، اسٹوریج کے اخراجات کم ہوں، اور مقامی مارکیٹ میں قیمتوں کا استحکام اور فوڈ سیکیورٹی یقینی بنائی جا سکے۔
فنانس ڈویژن نے مقامی گندم کے لیے 4,742 روپے فی 40 کلو اور درآمدی گندم کے لیے 6,425 روپے فی 40 کلو ریزرو قیمت تجویز کی تھی، تاہم ای سی سی نے مقامی گندم کے لیے 4,400 روپے اور درآمدی گندم کے لیے 4,070 روپے فی 40 کلو کی ریزرو قیمت مقرر کی۔ اس قیمت پر فروخت سے خزانے کو فی چالیس کلوگرام 2,355 روپے کا نقصان ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ 5 لاکھ ٹن گندم کو بیچنے سے مالی خسارہ 20.5 سے 22 ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے، لیکن اس اسٹاک کو ذخیرہ کرنے کی سالانہ لاگت 11 ارب روپے سے زیادہ ہے۔ پاسکو کے پاس مجموعی طور پر 20 لاکھ ٹن گندم کا ذخیرہ موجود ہے اور گزشتہ ماہ وفاقی کابینہ نے اس ادارے کو بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
پنجاب حکومت کو 3 لاکھ ٹن گندم فراہم کرنے کی منظوری بھی دی گئی تاکہ فلور ملوں کی سپلائی برقرار رہے، قیمتوں میں استحکام آئے اور صارفین کو آٹے کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ حکومت پنجاب نے یہ گندم 3,900 روپے فی 40 کلو کے حساب سے خریدنے کی درخواست کی تھی، جبکہ پاسکو کا خرچ 4,742 روپے فی 40 کلو تھا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے 4,150 روپے فی 40 کلو کے حساب سے فروخت کی منظوری دی، جس پر پنجاب کو 4.4 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔
اجلاس میں دیگر مالی فیصلے بھی کیے گئے، جن میں پاکستان پوسٹ آفس کے ذمے یوٹیلیٹی کمپنیوں کے واجبات کے لیے 10.98 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ، بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کے لیے 29.663 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ، اور درآمدی یوریا پر سبسڈی کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان 23.42 ارب روپے کی تقسیم شامل ہے۔
مزید براں، ہاؤسنگ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے کے پی کو 1.9 ارب اور کیڈٹ کالج حسن ابدال کو 15 کروڑ روپے کی گرانٹ دی گئی۔ ایف بی آر کے ضبط کردہ سولر پینلز گلگت بلتستان حکومت کو فراہم کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔
وزیر خزانہ نے جرمن سفیر سے ملاقات میں کہا کہ حکومت معیشت کے استحکام، مالی پائیداری اور ترقی و نمو کے لیے اقدامات کر رہی ہے، جبکہ ٹیکس اور دیگر شعبوں میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر عمل جاری ہے۔ دونوں فریقین نے پاکستان اور جرمنی کے درمیان مضبوط اور دیرپا شراکت داری کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے معاشی اصلاحات اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے قریبی رابطہ کاری جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
ای سی سی کی مہنگی درآمدی گندم رعایتی نرخوں پر فروخت کی منظوری، خزانے کو 22 ارب روپے تک نقصان کا خدشہ








