نوّے کی دہائی کے معروف پاکستانی گلوکار اور موجودہ سیاست دان جواد احمد ایک بار پھر اپنے سخت اور متنازع بیانات کے باعث خبروں میں آ گئے ہیں۔ موسیقی سے کنارہ کشی اختیار کرنے کے بعد وہ اکثر شوبز شخصیات، سیاسی رہنماؤں اور اپنے ہم عصروں پر کھل کر تنقید کرتے نظر آتے ہیں، جس پر انہیں عوامی ردِعمل کا بھی سامنا رہتا ہے۔
حال ہی میں ایک نیوز شو میں گفتگو کرتے ہوئے جواد احمد نے معروف گلوکاروں عاطف اسلم اور راحت فتح علی خان کو ’لالچی‘ قرار دے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی سیاسی وابستگی کے باعث موسیقی چھوڑ دی اور اب گلوکاری سے کوئی مالی فائدہ حاصل نہیں کرتے، کیونکہ ان کے نزدیک فن میں مالی لالچ کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔
جواد احمد نے اپنے دور کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت فنکار عوام کے زیادہ قریب ہوتے تھے، ہر جگہ دستیاب ہوتے تھے اور ان کی کیسٹیں ریکارڈ فروخت کرتی تھیں۔ ان کے مطابق بھارت میں بھی لوگ پاکستانی فنکاروں کی مقبولیت دیکھ کر حیران رہ جاتے تھے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ دیہات میں بغیر معاوضہ گانے گاتے تھے اور صرف یہ شرط رکھتے تھے کہ گانے سبق آموز اور مثبت پیغام کے حامل ہوں۔
موجودہ دور کے گلوکاروں پر تنقید کرتے ہوئے جواد احمد کا کہنا تھا کہ آج زیادہ تر فنکار صرف شادیوں اور کارپوریٹ تقریبات تک محدود ہو گئے ہیں اور عام مداحوں سے دور ہو چکے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ رویہ نہ صرف فن بلکہ خود فنکار کے لیے بھی نقصان دہ ہے، کیونکہ جس عوام نے انہیں شہرت دی، وہی اب ان کی ترجیحات میں شامل نہیں رہی۔
عاطف اسلم اور راحت فتح علی خان لالچی ہیں، جواد احمد کا متنازع بیان








