بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پاک آسٹریلیا ٹی ٹوئنٹی: بابر اعظم کا آؤٹ درست یا متنازع؟ نئی بحث نے جنم لے لیا

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے گئے پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ کے دوران امپائرنگ کے معیار پر سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے ہیں، خاص طور پر بابر اعظم کے ایل بی ڈبلیو آؤٹ نے شائقینِ کرکٹ کو الجھن اور مایوسی میں مبتلا کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق 29 جنوری کو کھیلے گئے میچ میں بابر اعظم ریورس شاٹ کھیلنے کے لیے گیند پڑنے سے قبل اپنا اسٹانس تبدیل کرتے ہوئے بائیں ہاتھ کے بلے باز بن گئے۔ گیند ان کے پیڈ پر لگی اور ابتدائی ری پلے میں یہ تاثر ملا کہ امپیکٹ لائن میں تھا جبکہ گیند آف سائیڈ پر پچ ہوئی تھی۔
تاہم حیران کن طور پر ٹی وی امپائر نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ گیند لیگ سائیڈ پر پچ ہوئی ہے، جس پر فوری طور پر سوالات اٹھنے لگے۔ بعد ازاں گراؤنڈ امپائر نے نشاندہی کی کہ بابر اعظم دراصل دائیں ہاتھ کے بلے باز ہیں، جس پر تھرڈ امپائر نے بال ٹریکنگ دوبارہ چیک کی اور بابر کو آؤٹ قرار دے دیا۔
اس فیصلے نے نہ صرف پاکستانی شائقین کو حیران کیا بلکہ آسٹریلوی میڈیا نے بھی امپائرنگ کے معیار پر طنز کرتے ہوئے اسے مذاق قرار دیا۔ سوشل میڈیا پر بھی یہ معاملہ تیزی سے زیرِ بحث آ گیا اور شائقین نے فیصلے کو متنازع قرار دیا۔
واضح رہے کہ ریورس ہٹ یا ریورس سوئپ کے دوران ایل بی ڈبلیو کا قانون اکثر شائقین کے لیے پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ کرکٹ قوانین کے مطابق آف سائیڈ اور لیگ سائیڈ کا تعین اس لمحے کیا جاتا ہے جب بولر اپنا رن اَپ شروع کرتا ہے، نہ کہ اس وقت جب بلے باز شاٹ کھیلتا ہے۔
ایم سی سی قوانین کے تحت اگر کوئی بلے باز بعد میں اپنا اسٹانس بدل کر ریورس شاٹ کھیلتا ہے تو ایل بی ڈبلیو کے فیصلے میں نئی آف سائیڈ کو مدنظر نہیں رکھا جاتا۔ یعنی جو سائیڈ ابتدا میں لیگ سائیڈ تھی، وہی ایل بی ڈبلیو قانون کے تحت برقرار رہتی ہے۔
اسی بنیاد پر اگر گیند پیڈ پر لگے اور اسٹمپس کی جانب جا رہی ہو تو بلے باز کو آؤٹ دیا جا سکتا ہے، چاہے بظاہر گیند آف اسٹمپ کی لائن سے باہر کیوں نہ دکھائی دے۔
یوں بابر اعظم کا آؤٹ قانونی طور پر درست قرار دیا جا سکتا ہے، تاہم امپائرنگ کے عمل، وضاحت اور فیصلے کے انداز نے شفافیت پر سوال ضرور کھڑے کر دیے ہیں—اور یہی وجہ ہے کہ یہ فیصلہ اب بھی کرکٹ حلقوں میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔