امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانیہ کے چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے تجارتی اور سرمایہ کاری تعلقات کو شدید تشویش کا باعث قرار دیتے ہوئے اسے “انتہائی خطرناک” قرار دیا ہے۔ یہ بیان ایسے موقع پر سامنے آیا جب برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر بیجنگ میں چین کے سرکاری دورے پر ہیں اور دونوں ممالک تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
ایک تقریب کے دوران صحافیوں سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ برطانیہ کے لیے چین کے ساتھ کاروباری تعلقات میں جانا ممکنہ طور پر خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کینیڈا کو بھی چین کے ساتھ اقتصادی معاہدوں میں محتاط رہنے کی تنبیہ کی اور کہا کہ وہاں صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب ڈاؤننگ اسٹریٹ نے وضاحت دی کہ امریکا کو برطانوی وزیراعظم کے دورۂ چین اور اس کے مقاصد سے پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا، اور یہ بھی بتایا گیا کہ صدر ٹرمپ خود اپریل میں چین کا دورہ کرنے والے ہیں۔
سر کیئر اسٹارمر نے چین کے ساتھ تعلقات کو مضبوط اور مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر شی جن پنگ کے ساتھ ملاقاتیں مفید رہیں اور برطانیہ نے نمایاں پیش رفت حاصل کی۔ ان کے دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری معاہدوں کا اعلان کیا گیا، جس میں بغیر ویزا سفر، کم ٹیرف اور برطانوی دوا ساز کمپنی ایسٹرا زینیکا کی جانب سے 10.9 ارب پاؤنڈ سرمایہ کاری شامل ہے۔
اس کے علاوہ، برطانیہ اور چین نے منظم جرائم اور غیر قانونی امیگریشن کے خلاف تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا، تاکہ دونوں ممالک کی سیکیورٹی اور تجارتی دلچسپیاں بہتر طور پر محفوظ کی جا سکیں۔
ٹرمپ نے برطانیہ کے چین کے ساتھ تجارتی تعلقات کو خطرناک قرار دے دیا








