امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ پنجاب میں گڈ گورننس اور تھانہ کلچر کے معاملات کا اصل چہرہ ایک حالیہ واقعے کے ذریعے سامنے آ گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ تھانے کو یہ جرات اور اختیار کس نے دیا کہ وہ ایک مظلوم شہری کو ٹارچر کرے؟
حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ کچھ افسران کے خلاف برطرفی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں، لیکن یہ محض وقتی اقدام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں نچلی سطح تک بااختیار بلدیاتی نظام کیوں نہیں نافذ؟ اور تمام اختیارات کا مرکز و محور ایک ہی خاندان میں کیوں مرکوز ہے؟
انہوں نے زور دیا کہ اختیارات کے اس مرکزیت والے نظام کو تبدیل کرنا ہوگا تاکہ گڈ گورننس کو فروغ ملے اور شہریوں کو انصاف بروقت اور مؤثر انداز میں فراہم کیا جا سکے۔
پنجاب میں گڈ گورننس اور تھانہ کلچر کا پول ایک واقعے نے بے نقاب کر دیا، حافظ نعیم الرحمان








