بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ایف سی ایریا میں ڈیجیٹلائزڈ فیڈرل ڈسپنسری کا افتتاح

وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے ایف سی ایریا میں کراچی کی تیسری ڈیجیٹلائزڈ فیڈرل ڈسپنسری کا افتتاح کیا اور صحت کے نظام میں جدید سہولیات کے نفاذ پر زور دیا۔
تقریب کے دوران انہوں نے بتایا کہ سانحہ گل پلازہ کے بعد پانچ دن تک لاشوں کے ڈی این اے ٹیسٹ نہیں ہو سکے تھے، جس کے باعث وفاقی حکومت کو مداخلت کرنا پڑی۔ اس موقع پر انہوں نے ہر صوبے میں ڈی این اے لیبارٹری قائم کرنے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔
یہ ڈسپنسری ہیلتھ کیئر ڈیجیٹلائزیشن پروگرام کے تحت جدید سہولیات سے آراستہ کی گئی ہے اور صحت کہانی اور وفاقی وزارت صحت کے تعاون سے پاکستان میں چھٹی ڈسپنسری کے طور پر قائم کی گئی ہے۔ صحت کہانی کی سی ای او سارہ سید خرم نے بتایا کہ اس سے قبل کراچی کے ایئرپورٹ اور جیکب لائنز میں بھی ڈسپنسریز کو جدید بنایا جا چکا ہے، جہاں مریضوں کو معائنے کے ساتھ مفت ادویات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ یہ خوشی کا موقع ہے کہ پرانی ڈسپنسری کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان بھر میں دس ایسی ڈسپنسریز تیار کی جا رہی ہیں، جن میں چھ اسلام آباد اور چار کراچی میں ہوں گی۔
مزید براں، انہوں نے نِپاہ وائرس کے حوالے سے چار روز قبل این آئی ایچ کی جاری کردہ الرٹ کا ذکر کرتے ہوئے عوام سے احتیاطی تدابیر اپنانے کی ہدایت کی اور کہا کہ الحمدللہ پاکستان تاحال اس وائرس سے محفوظ ہے۔
وزیر صحت نے واضح کیا کہ بڑے حادثات اور پیچیدہ آپریشنز بڑے اسپتالوں میں ہوتے ہیں، تاہم 70 سے 80 فیصد صحت کی بنیادی ضروریات بنیادی اور سیکنڈری مراکز سے پوری کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں سانحات سے بچاؤ کے لیے حادثات کی فائنڈنگز پر عملی اقدامات کرنا ضروری ہیں، نہ کہ ہر بار حادثے کے بعد ردعمل ظاہر کیا جائے۔