بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

سانحہ بھاٹی گیٹ تفتیش، نجی کمپنی و سرکاری افسران زد میں آگئے

لاہور: (نیوزڈیسک)پنجاب میں دل دہلا دینے والے واقعات پر مبینہ طور پر “مٹی پاؤ” کلچر کے خاتمے کی جانب اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں سانحہ بھاٹی گیٹ پر وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی شدید برہمی کے بعد بڑے اقدامات کیے گئے ہیں۔

حکام کے مطابق بھاٹی گیٹ پر کام کرنے والی ایس ایم ایس ڈیزائن اینڈ انجینئرنگ سسٹم کمپنی کو فوری طور پر کام سے روک دیا گیا ہے جبکہ واقعے کی تفتیش کا دائرہ کار بھی وسیع کر دیا گیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے بعد معاملہ صرف نجی کمپنی تک محدود نہیں رہا بلکہ مبینہ طور پر غفلت برتنے والے سرکاری افسران کو بھی شاملِ تفتیش کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کمپنی کی مجرمانہ غفلت اور بنیادی حفاظتی ایس او پیز سے انحراف اس المناک حادثے کی بڑی وجوہات میں شامل قرار دی جا رہی ہیں۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے کمپنی کے سیفٹی آفیسرز سمیت پانچ ملزمان کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا، جہاں ان کا چار روزہ ریمانڈ منظور کر لیا گیا۔ گرفتار افراد میں سیفٹی آفیسر محمد حنزلہ، اصغر علی، احمد نواز جبکہ کمپنی مالکان سلمان یاسین اور عثمان یاسین شامل ہیں، جن سے تفتیش جاری ہے۔

تحقیقاتی حکام کے مطابق دو سے تین فروری کے دوران متوقع پوسٹ مارٹم رپورٹ کیس کی پیش رفت میں مزید اہم کردار ادا کرے گی۔ ادھر وزیراعلیٰ کے نوٹس کے بعد بھاٹی گیٹ کی سائٹ کو “ڈیتھ ٹریپ” سے محفوظ زون میں تبدیل کرنے کے اقدامات کیے گئے ہیں، اور حفاظتی انتظامات کے بغیر کام کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ سائٹ کو جدید سیفٹی پروٹوکولز کے تحت لایا جا رہا ہے۔

وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ مٹی پاؤ کا دور ختم ہو چکا ہے اور پنجاب کی بیٹیوں کے خون کا حساب لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہنستے بستے گھرانے اجاڑنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچانا ان کا مشن ہے۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق معصوم سعدیہ اور اس کی ننھی بچی کے زخم دیکھ کر دل خون کے آنسو رویا اور یہ زخم پورے پنجاب کے ماتھے پر لگے ہیں۔