وفاقی آئینی عدالت نے پسند کی شادی کے کیس میں ماریہ نامی لڑکی کو اپنے شوہر شہر یار کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔ عدالت نے لڑکی کے والدین کو مشورہ دیا کہ وہ مبینہ جعلی نکاح کے حوالے سے متعلقہ فورم سے رجوع کریں۔
لڑکی ماریہ نے عدالت میں کہا کہ انہیں کسی نے اغوا نہیں کیا اور انہوں نے مرضی سے شہر یار سے شادی کی۔ لڑکی کے والدین کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ بچی کی عمر 12 سال ہے اور کم سن بچی کا نکاح نہیں ہو سکتا۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے سماعت کے دوران کہا کہ لڑکی کسی طور پر 12 سال کی نہیں لگتی، اور اس نے مجسٹریٹ کے روبرو سیکشن 164 کا بیان بھی دیا ہے۔ عدالت نے مزید نوٹ کیا کہ لڑکی خود کو بالغ بتا رہی ہے اور وہ اغوا کے خلاف موقف رکھتی ہے۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے بتایا کہ لڑکی کی شادی کو 6 ماہ گزر چکے ہیں اور شادی سے قبل لڑکی نے اسلام قبول کیا۔
جسٹس حسن رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت مکمل کرتے ہوئے پسند کی شادی کے معاملے کو نمٹا دیا۔









